120

تہران کا عالمی جوہری معاہدے سے ’جزوی دستبرداری‘ کا اعلان

امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ 2015 میں طے پانے والے عالمی جوہری معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری کے ایک سال بعد تہران نے اعلان کیا ہے کہ وہ معاہدے کے کچھ اہم نکات سے دستبردار ہو رہے ہیں۔ ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ تہران افزودہ یورینیئم کے ذخائر ملک میں رکھے گا، تاہم ان کو کسی بیرونِ ملک فروخت نہیں کی جائے گی۔

انھوں نے انتہائی حد تک افزودہ یورینیئم (highly enriched Uranium) کی پیداوار 60 روز میں دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

جوہری معاہدے کا مقصد ایران کو اقتصادی پابندیوں سے چھوٹ دے کر ان کے جوہری عزائم کو روکنا تھا۔

امریکہ کی جانب سے اس معاہدے کو چھوڑنے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے اور امریکہ نے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں دوبارہ لگا دی ہیں۔

ایران کی جانب سے اس اعلان سے ایک ہی دن قبل امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے عراق کا ایک غیر اعلانیہ دورہ کیا اور امریکہ نے ایک جنگی بحری بیڑا خلیجِ فارس میں بھیج دیا ہے۔

امریکہ کے مشیر قومی سلامتی جان بولٹن کا کہنا ہے کہ یہ قدم ایران کی جانب سے ‘متعدد دھمکیوں اور اکسانے والے بیانات’ کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک امریکی سرکاری اہلکار کا حوالے دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ جنگی بیڑے کی تعیناتی امریکی افواج پر ممکنہ حملے کے دعویٰ کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

جان بولٹن کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی حملے کی صورت میں ‘سخت قوت’ کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔

گذشتہ ماہ امریکی صدارتی دفتر کی جانب سے کہا گیا تھا کہ امریکہ ایران سے تیل کی خریداری پر پانچ ملکوں کو دیا گیا عارضی استثنیٰ ختم کر دے گا کیونکہ چین، انڈیا، جاپان، جنوبی کوریا اور ترکی تب تک ایران سے تیل خرید رہے تھے۔

اسی وقت امریکہ نے ایران کے خصوصی فوجی دستے پاسداران انقلاب کو غیرملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔

ان پابندیوں نے تیزی سے ایران کی معیشت میں گراوٹ کی ہے، اس کی کرنسی کو ریکارڈ کم سطح پر لے آئی ہیں اور سالانہ افراط زر کی شرح کو چار گنا بڑھانے کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو دور کرنے، اور ملک میں حکومت مخالف مظاہروں کو فروغ دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.