41

تہران میں میناروں کے بغیر نوتعمیرمسجد سے ایرانی سخت گیروں کا ’’اسلام‘‘ خطرے میں!

ایران کے دارالحکومت تہران کے وسط میں ایک نئی مسجد کی تعمیر پر سخت گیر نالاں ہوگئے ہیں اور ان کا اعتراض یہ ہے کہ اس مسجد کے مینار کیوں نہیں تعمیر کیے گئے۔انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح مساجد کی تعمیرات سے اسلامی جمہوریہ کی بنیادیں خطرے سے دوچار ہوسکتی ہیں۔

ولیِ عصر کے نام سے یہ مسجد دارالحکومت کے مشہور کاروباری علاقے میں جامعہ تہران کے نزدیک ایک چوراہے میں تعمیر کی گئی ہے۔اس کے آرکیٹیکٹس نے مسجد کا جدید ڈیزائن اختیار کیا تھا اور اس میں گنبد اور بلند وبالا مینار نہیں بنائے گئے ہیں بلکہ ان کے بغیر بالکل سادہ انداز میں عمارت تعمیر کی گئی ہے اور وہ دور سے دِکھنے میں مسجد نظر نہیں آتی ہے جس کی وجہ سے سخت گیروں کو اس کے ڈیزائن اور ماہرینِ تعمیرات کے کام پر انگشت زنی کا موقع ہاتھ آگیا ہے۔

سخت گیر اس مسجد کے نئے ڈھانچے کو اسلامی جمہوریہ ایران پر سیکولر حملے ہی کی ایک کڑی قرار دے رہے ہیں۔ایک خبری ویب گاہ مشرق میں ایک اداریہ پوسٹ کیا گیا ہے جس میں اس مسجد کے ڈھانچے کو یہود کے صومعے کے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔اس اداریے میں مسجد کے ڈیزائن کی منظوری دینے والے حکام پر ’’ غداری‘‘ کا الزام عاید کیا گیا ہے اور یہ لکھا ہے کہ اس میں جمالیاتی ذوق کو بھی ملحوظ نہیں رکھا گیا۔

یوں یہ مسجد ایران کے سخت گیروں اور روشن خیال فن کار برادری کے درمیان ایک نیا میدان جنگ بن چکی ہے۔ اس مسجد کا ڈھانچا 25 ہزار مربع میٹر رقبے پر محیط ہے۔ یہ تہران کے سٹی تھیٹر سے متصل واقع ہے ۔اس میں ایک لائبریری ، مطالعے کے ہال اور تدریسی کمرے بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔

اس کے ایک آرکیٹیکٹ رضا دانش میر کا کہنا ہے کہ انھیں مسجد کے نقشے کے بارے میں حکام کو قائل کرنے میں کئی ماہ لگے تھے اور انھوں نے حکام کے سامنے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ تہران کے اس علاقے میں اگر ایک روایتی مسجد کی تعمیر کی جاتی تو وہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے بالکل مطابقت نہیں رکھتی۔انھوں نے ایک پارلیمانی کمیٹی کے روبرو بھی یہی دلائل پیش کیے تھے۔

تاہم ان کے بہ قول شہری حکام کا یہ اعتراض تھا کہ اس کی عمارت روایتی مسجد ایسی نظر نہیں آتی ہے لیکن انھوں نے یہ وضاحت کی تھی کہ اس مسجد میں آنے والے زیادہ تر نوجوان ہوں گے ،اس لیے ان کے ذوق کے مد نظر اس کا جدید ڈیزائن بنایا گیا تھا ۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اس مسجد کا نقشہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں پہلی تعمیر کردہ مسجد نبوی کے مطابق بنایا گیا ہے۔اس مسجد کے مینار نہیں تھے۔اسی طرح گنبد نما عمارتیں بھی عیسائی فن تعمیر کی نشانی ہیں اور اسی سے اسلام کے ابتدائی دور میں اس کو اختیار کیا گیا تھا۔بعد میں مساجد کے مینار تعمیر کیے جانے لگے تھے۔

انھوں نے یہ بھی دلیل دی تھی کہ ماضی میں مؤذن حضرات مسجد کے میناروں کی سیڑھیاں چڑھ کر بلندی سے پنج وقتہ نماز کی اذان دیا کرتے تھے لیکن لاؤڈ اسپیکرز کے آجانے سے مینار سے اذان دینے کا عمل قریب قریب پوری اسلامی دنیا میں متروک ہو چکا ہے۔

ماہرین ِ تعمیرات کے ان دلائل سے سخت گیروں اور انتہا پسندوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس طرح مساجد کے روایتی ڈھانچے کو خیرباد کہہ کر اسلامی جمہوریہ کی بنیادیں ہی ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔مشرق نے یہ بھی لکھا ہے کہ سٹی تھیٹر کے دامن میں مسجد کے روایتی ڈیزائن کی قربانی دی گئی ہے۔

مگر انتہا پسندوں اور سخت گیروں کی مخالفت کے باوجود اس مسجد کا ڈھانچا دس سال کی مدت کے بعد پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔اس کی عمارت پر ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالرز لاگت آئی ہے اور توقع ہے کہ اس کو آیندہ چند ماہ میں عبادت گزاروں کے لیے کھول دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں