30

تعلیمی بورڈ:کبھی کچھ کبھی کچھ

دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے وطن عزیز میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات دو دو حصوں یعنی نویں، دسویں اور گیارہویں، بارہویں کی بنیادوں پر لئے جا رہے ہیں، اس سے قبل جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا متذکرہ امتحانات دو دو سال کی مجموعی کارکردگی کی بنیاد پر لئے جاتے تھے، البتہ متعلقہ اسکول و کالج اپنی سطح پر نویں اور گیارہویں کے امتحانات (پرموشن ٹیسٹ) لیا کرتے تھے۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بدھ کے روز اسلام آباد میں وزرائے تعلیم کی بین الصوبائی کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ ملک کے تمام تعلیمی بورڈ اگلے سال سے صرف آٹھویں، دسویں اور بارہویں جماعت کا امتحان لیں گے جبکہ نویں اور گیارہویں جماعتوں کے بورڈ امتحانات ختم کر دیئے گئے ہیں۔ کانفرنس میں گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر سمیت چاروں صوبوں سے متعلقہ تعلیمی حکام شریک ہوئے جس کی روشنی میں وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ موجودہ اور بالخصوص آنے والے وقت کے تناظر میں ملک بھر کے طلباء و طالبات کے نتائج پر یکساں اثرات مرتب کرے گا، تاہم اس ضمن میں موجودہ اور ماضی کے متذکرہ دونوں امتحانی ادوار کے تجربات اور کارکردگی کو بھی سامنے رکھنا چاہئے کیونکہ اس وقت میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے زیادہ سے زیادہ حاصل کردہ نمبروں کی شرح ماضی کے مقابلے میں 65فیصد کی اوسط سے بڑھ 90اور 95فیصد کی اوسط پر جا پہنچی ہے، جس سے اگلی جماعتوں کے داخلوں کا میرٹ بھی اسی شرح سے بڑھا ہے، داخلہ ٹیسٹ اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ لہٰذا ضروری ہوگا کہ حکومت جو بھی فیصلہ کرے وہ ماضی کے بار بار کے تجربات کی نسبت حتمی اور ٹھوس ہونا چاہئے جس سے محنتی طالبعلموں کی کارکردگی پر منفی اثر نہ پڑے۔ نیزملک بھر میں رائج خصوصاً میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی سطح پر دُہرا اور تہرا نظام ختم ہونا چاہئے اور معیارِ تعلیم عالمی سطح سے نیچے نہ گرنے پائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.