37

تحریکِ طالبان کی قیادت ایک بار پھرمحسود جنگجوؤں کے ہاتھوں میں

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے اپنے امیر مولانا فضل اللہ کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق کے بعد محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک اہم کمانڈر مفتی نور ولی محسود عرف ابو منصور عاصم کو نیا امیر مقرر کردیا ہے جس کے ساتھ ہی طالبان قیادت ایک مرتبہ پھر محسود جنگجوؤں کے ہاتھوں میں آ گئی ہے۔

دسمبر2007 میں جب پہلی مرتبہ کئی شدت پسند تنظیموں پر مشتمل تحریک طالبان پاکستان کی تنظیم کی بنیاد رکھی گئی تو بیت اللہ محسود اس وقت اس کے پہلے امیر چنے گئے۔ اس وقت یہ تنظیم بیشتر محسود جنگجوؤں پر مشتمل تھی جبکہ فرنٹ لائن پر لڑنے والے اکثریتی ‘ فٹ سولجرز’ بھی محسود قبیلے سے ہی تعلق رکھتے تھے۔

تاہم دو سال کے بعد یعنی 2009 میں بیت اللہ محسود ایک امریکی ڈورن حملے میں مارے گئے جس کے بعد محسود قبیلے کے ایک اور جنگجو اور اس وقت بیت اللہ محسود کے دست راست حکیم اللہ محسود کو ٹی ٹی پی کی امارت کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔

لیکن وہ بھی تقریباً چار سال تک زندہ رہے اور2013 میں وزیرستان میں ہی ایک امریکی ڈرون حملے کا شکار بنے۔ اس کے بعد پہلی مرتبہ سوات سے تعلق رکھنے والے ایک طالبان کمانڈر مولانا فضل اللہ خراسانی کو امارت کی ذمہ داری دی گئی۔

مولانا فضل اللہ ایک لحاظ سے پہلے غیر محسود جنگجو کمانڈر تھے جنہیں تحریک کے امارت کے عہدے پر فائز کیا گیا۔

اس وقت یہ توقع نہیں کی جا رہی تھی کہ طالبان کی امارت کبھی محسودوں کے ہاتھوں سے نکل کر کسی اور کے ہاتھوں میں جا سکتی ہے کیونکہ اس کی بنیاد بھی محسود طالبان نے رکھی تھی اور اس وقت ان کی جنگجووں کی تعداد بھی دیگر علاقوں کے شدت پسندوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ تصور کی جاتی تھی۔ اس وقت تحریک پر ایک لحاظ سے محسود جنگجوؤں کا قبضہ سمجھا جاتا تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سب سے پہلے طالبان کا وجود بھی محسود قبیلے کے علاقے میں ہوا اور یہاں تک کہا جاتا ہے کہ غیر ملکی جنگجوؤں کی سب سے پہلے حمایت بھی محسود قبیلے کے طالبان کی طرف سے ملی یا ان پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ فاٹا میں محسود طالبان سب سے پہلے غیر ملکی جنگجوؤں کو لائے اور ان کو پناہ دی۔ تاہم بعض لوگ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔

لیکن مولانا فضل اللہ خراسانی کی امیر مقرر ہونے کے بعد طالبان میں پہلی مرتبہ واضح طورپر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اور سب سے پہلے محسود طالبان نے ان کی مخالفت کی۔

کہا جاتا ہے کہ امارت کا فیصلہ اس وقت محسود طالبان کے رہنما خالد سجنا اور فضل اللہ کے درمیان ٹاس کر کے حل کیا گیا تاہم قرعہ فضل اللہ کے نام کا نکلا لیکن پھر بھی محسود طالبان نے اسے دل سے تسلیم نہیں کیا اور کچھ عرصے کے بعد یہ ایک اہم دھڑا ٹی ٹی پی سے مکمل طورپر جدا ہوا۔

اس دوران مہمند طالبان کے سربراہ عمر خالد خراسانی، باجوڑ طالبان کے کمانڈر ابوبکر اور کچھ دیگر علاقوں کے شدت پسندوں نے بھی مرکزی تنظیم سے امارت کے معاملے پر اختلاف کرتے ہوئے اپنے الگ الگ دھڑے بنالے جس سے تنظیم خاصی کمزور ہوئی۔

تاہم کچھ عرصہ قبل محسود طالبان نے تمام اختلافات ختم کرکے ایک مرتبہ پھر فضل اللہ کے ہاتھ پر بعیت کرلی تھی جبکہ اس بدلے میں امارت کے نائب امیر کے عہدہ پر خالد سجنا محسود کو مقرر کر دیا گیا۔ تاہم چند ماہ قبل خالد سجنا کی ہلاکت کے بعد کمانڈر نورولی کو ان کی جگہ حلقہ محسود کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

شدت پسندی پر کام کرنے والے بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ نور ولی محسود کی امیر مقرر ہونے کے بعد محسود طالبان ایک بار پھر متحرک ہو سکتے ہیں اور ان کی کوشش ہو گی کہ ناراض دھڑوں کو منا کر تنظیم کو مضبوط بنایا جائے۔

انھوں نے کہا کہ تنظیم اس طرح تو دوبارہ فعال نہیں ہو سکتی جسے 11 سال پہلے تھی لیکن ہر نیا مقرر ہونے کے بعد اپنی کارکردگی دیکھانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔

تاہم وزیرستان کے ایک سینئیر صحافی سلیم محسود اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کی بیشتر اہم قیادت کی ڈرون حملوں میں ہلاکت کے بعد یہ تنظیم کافی حد تک کمزور ہوچکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ شاید مولانا فضل اللہ کی موجودگی کی وجہ سے تنظیم میں کسی حد تک اتحاد برقرار تھا لیکن ان ک ہلاکت کے بعد اب یہ خطرہ بڑھے گا کہ ان سے چند کمانڈر الگ ہو کر دولت اسلامیہ کے ساتھ مل جائے کیونکہ افغانستان میں ان کا اثر رسوخ تیزی سے بڑھتا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جہاں تک ان کا خیال ہے کہ ٹی ٹی پی میں اختلافات کی وجہ سے شاید اب وہ طاقت باقی نہیں رہی جو پہلے تھی لہذٰا عسکری تنظیموں میں یہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے کہ جہاں پلڑا بھاری ہوتا ہے لوگ اس طرف نکل سکتے ہیں۔

تحریک کی طرف سے سنیچر کو جاری کردہ بیان کے مطابق مفتی نور ولی محسود کے ساتھ ساتھ مفتی حضرت کو بھی نائب امیر مقرر کردیا گیا ہے جن کا تعلق ضلع دیر سے بتایا جاتا ہے۔

مولانا فضل اللہ کی سربراہی میں بیشتر اوقات تحریک کا ہیڈ کوارٹر پاکستان کے سرحد سے متصل افغان صوبوں کنڑ اور نورستان میں رہا لیکن کمانڈر نوولی محسود کے آنے سے اب یہ مرکز افغان صوبہ پکتیکا میں منتقل ہونے کا امکان ہے کیونکہ اطلاعات کے مطابق بیشتر محسود طالبان وہاں پہاڑی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.