31

تابوت کو لٹکانے کا رواج

زندگی ہے تو موت ہے یا یہ کہیں کہ زندگی کے بغیر موت نہیں اور یہ کہ زندگی دراصل موت میں پوشیدہ ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔

ہر معاشرے اور مذہب میں مختلف طریقے سے آخری رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ عام طور پر لوگ اپنے مردوں کو دفن کرتے ہیں یا پھر ان کو نذر آتش کر دیتے ہیں۔ لیکن ایسا معاشرہ بھی ہے جہاں اپنے مردوں کو پہاڑوں کی چوٹیوں پر رکھنے اور لٹکانے کا بھی رواج ہے۔

یہ امر حیران کن ہو سکتا ہے لیکن یہ سچ ہے۔ فلپائن کے ماؤنٹین صوبے کے شمالی حصے میں پہاڑوں کے درمیان ایک شہر ‘سگاڈا’ ہے۔

یہ دنیا بھر میں تابوت کو لٹکانے کی اپنی انوکھی رسم کے لیے مشہور ہے۔ صدیوں سے یہاں ‘ایگوروٹ’ قبیلے کے لوگ آباد ہیں۔

فلپائن کے دارالحکومت مینیلا سے سگاڈا تک پہنچنے میں تقریباً ساڑھے آٹھ گھنٹے لگتے ہیں۔

راستہ بھی دشوار گزار ہے جہاں آپ کو بہت سے پرانے، آسیب زدہ علاقے نظر آئیں گے اور انوکھی تصویریں اور رسم و رواج بھی نظر آئیں گے۔

دشوار گزار راستے
سگاڈا میں تقریباً دو ہزار سال قدیم ایک انوکھی رسم آج بھی جاری ہے۔ ایگوروٹ قبیلے والے اپنا تابوت خود تیار کرتے ہیں۔

لیکن وہ اس تابوت میں اپنے مردے رکھ کر اسے دفن نہیں کرتے بلکہ اسے پہاڑ کی چوٹی سے لٹکا دیتے ہیں۔

ان کا یہ عقیدہ ہے کہ ہوا میں لٹکتی ہوئی لاشیں ان کے آنجہانی آبا و اجداد کو ان کے قریب لاتے ہیں اور اس طرح وہ مر کر بھی اپنے لوگوں سے دور نہیں ہوتے۔

روایتی طور پر اس قبیلے کے معمر افراد یہ کام کرتے ہیں۔ علاقے کی لکڑی سے وہ تابوت تیار کرتے ہیں اور رنگ و روغن کرتے ہیں۔

تابوت کے ایک سرے پر مردے کا نام اور پتہ لکھا ہوتا ہے۔ مردے کو تابوت میں رکھنے سے پہلے اس میں لکڑی کی ایک کرسی رکھی جاتی ہے جسے ‘ڈیتھ چیئر’ کہتے ہیں۔

کرسی کو انگور کی بیلوں اور پتیوں کے ساتھ باندھ کر اس پر ایک کمبل ڈال دی جاتی ہے۔

مرنے والے کے عزیز و اقارب تابوت لٹکانے کے بعد کئی دنوں تک وہاں آتے جاتے رہتے ہیں۔ لاش انگور کی پتیوں سے ڈھکی ہوتی ہے اس لیے اس کے سڑنے کا احساس نہیں ہوتا۔

لڈیتھ چیئر والے تابوت
پہلے تابوت کی لمبائی صرف ایک میٹر ہوتی تھی۔ مردے کو پہلے کرسی پر رکھا جاتا اور لوگ آخری دیدار کرتے اور اس کے بعد مردے کو ایک میٹر طویل تابوت میں اس طرح ٹھونس دیا جاتا کہ اس کی بہت سے ہڈیاں ٹوٹ جاتیں اور وہ تابوت میں فٹ ہو جاتا۔

بہر حال اب تابوت کی لمبائی بڑھا دی گئی ہے اور اب یہ کم از کم دو میٹر کا ہوتا ہے۔

پہاڑ پر تابوت لٹکانے سے قبل وہاں لوہے کی سلاخیں گاڑھ دی جاتی ہیں جو آگے کی جانب سے مڑی ہوتی ہیں اور تابوت کو انھی کیلوں کے سہارے لٹکایا جاتا ہے۔

تابوت میں رکھنے سے قبل لاش کو مخصوص قسم کی پتیوں میں لپیٹا جاتا ہے اور جب تابوت کو کیلوں پر ٹکانے کے لیے کھینچتے ہیں تو پتیوں سے رس نکلتا ہے۔

لوگ پتیوں سے نکلنے والے رس کو اپنے جسم پر گرنے دیتے ہیں اور اسے خوش بختی کی علامت سمجھتے ہیں۔

تاریخ کے صفحات میں یہ باتیں ملتی ہیں کہ مردوں کو لٹکانے کا رواج فلپائن کے ساتھ انڈونیشیا اور چین کے بعض علاقوں میں بھی ملتا تھا۔ لیکن اب فلپائن میں بھی یہ صرف سگاڈا گاؤں تک محدود ہے۔

اور وہاں بھی صرف قدیم قبائل میں ہی یہ تدفین کا یہ طریقہ رائج ہے اور سنہ 2010 میں آخری بار پہاڑی پر کوئی مردہ دفن کیا گیا تھا۔

گذشتہ چند سالوں سے سگاڈا قصبہ اپنے اس رواج کی وجہ سے مشہور سیاحتی مقام بن گیا ہے۔ دور دراز سے لوگ پہاڑ پر آویزاں اس قبرستان کو دیکھنے آتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا یہ قبرستان اب ایگوروٹ قبیلے کے لوگوں کے لیے سود مند ثابت ہو رہا ہے۔

سیاحوں کی تعداد میں اضافے سے وہاں کے روزگار میں اضافہ ہوا ہے اور سگاڈا کی مالی حالت میں بہتری آئی ہے۔

بہر حال اب اس اس قبرستان میں بہت کم لوگ اپنے مردے لٹکاتے ہیں لیکن یہ امید کی جاتی ہے کہ یہ رسم زندہ رہے گی کیونکہ یہ قبرستان اب وہاں کے لوگوں کے لیے آمدنی کے ذریعہ ہے۔

یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس گاؤں کے لوگ مرنے کے بعد بھی اپنے لوگوں کی خوش بختی کا باعث ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.