36

‘بےبنیاد امریکی الزامات سے افغانستان میں تعاون کو نقصان پہنچ سکتا ہے’

پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات پر امریکی ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاج کیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق منگل کو امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور پال جونز کو طلب کیا گیا اور صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے بلاجواز اور بے بنیاد الزامات پر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

بیان کے مطابق سیکریٹری خارجہ نے امریکی صدر کے تازہ ٹویٹس اور بیان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور کو بتایا کہ پاکستان کے خلاف اس قسم کی بےبنیاد بیان بازی بالکل قابل قبول نہیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے گذشتہ دو دن کے دوران پاکستان کے بارے میں اپنے ایک انٹرویو اور ٹویٹس میں متعدد الزام تراشیاں کی ہیں۔

پیر کو اپنے ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ’ہم پاکستان کو اربوں ڈالر اب اس لیے نہیں دیتے کیونکہ وہ پیسے لے لیتے ہیں اور کرتے کچھ نہیں۔ بن لادن اس کی بڑی مثال ہے اور افغانستان ایک اور۔ وہ ان کئی ممالک میں سے ایک ہے جو امریکہ سے لیتے تو ہیں لیکن جواب میں دیتے کچھ نہیں۔ یہ اب ختم ہو رہا ہے۔‘

اس سے قبل اتوار کو امریکی ٹیلی ویژن چینل فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے عندیہ دیا تھا کہ پاکستان نے اسامہ بن لادن کو اپنے ملک میں رکھا ہواتھا۔
انھوں نے کہا: ‘پاکستان میں ہر کسی کو معلوم تھا کہ وہ (اسامہ بن لادن) فوجی اکیڈمی کے قریب رہتے ہیں۔ اور ہم انھیں 1.3 ارب ڈالر سالانہ امداد دے رہے ہیں۔ ہم اب یہ امداد نہیں دے رہے۔ میں نے یہ بند کر دی تھی کیوں کہ وہ ہمارے لیے کچھ نہیں کرتے۔’

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے حوالے سے بیان کو مسترد کرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے امریکی ناظم الامور کو یاد دہانی کرائی کہ پاکستانی انٹیلیجنس تعاون ہی سے اسامہ بن لادن کے بارے میں معلومات حاصل ہو سکیں۔

سیکریٹری خارجہ نے امریکی ناظم الامور کو بتایا کہ کسی اور ملک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتنی بھاری قیمت ادا نہیں کی جتنی کہ پاکستان نے کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی قیادت نے کئی مواقع پر القاعدہ کی قیادت کے قلع قمع اور خطے سے دہشت گردی کے خطرے کے خاتمے کے سلسلے میں پاکستان کے تعاون کا اعتراف کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو نہیں بھولنا چاہیے کہ القاعدہ کے کئی اہم ترین رہنما پاکستان کے تعاون سے ہی ہلاک یا گرفتار ہوئ.
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں عالمی برادری کی کوششوں کی حمایت جاری رکھی ہے اور امریکہ کی جانب سے افغانستان کے مسئلے کے سیاسی حل کی کوششوں کے اعلان کے بعد امریکہ اور پاکستان خطے کی دیگر قوتوں کے ساتھ مل کر اس طویل عرصے سے جاری تنازعے کے خاتمے کے لیے کوشاں تھے۔

پاکستانی دفترِ حارجہ کا کہنا ہے کہ ایسے نازک موڑ پر تاریخ کے ایک بند باب کے بارے میں بےبنیاد الزامات اس اہم تعاون کے لیے نقصان دن ثابت ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.