57

’بکریاں مسکراتے چہرے پسند کرتی ہیں‘

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بکریاں اور بکرے انسانی چہروں پر خوشی کے تاثرات سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے ہونے والی تحقیق کے مقابلے میں اب سامنے آنے والے نتائج کے مطابق زیادہ قسم کے جانور انسانوں کے مزاج سمجھ سکتے ہیں۔

سائنسدانوں کی ٹیم نے بکریوں اور بکروں کو ایک ہی انسان کی دو تصاویر دکھائیں، جن میں سے ایک غصے والی اور دوسرے خوشی کی تاثرات ظاہر کر رہی تھی۔

اوپن سائنس جریدے میں شائع ہونے والے رپورٹ میں محققین نے واضح کیا ہے کہ بکرے بکریاں خوشی والے چہروں سے متاثر ہوتے ہیں۔

ان نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جانوروں کی انسانی چہروں کو پہنچاننے کی صلاحیت صرف ان جانوروں تک محدود نہیں ہے جن کی انسانوں کے ساتھ بطور دوست کام کرنے کی طویل تاریخ رہی ہے جیسا کہ کتے اور گھوڑے۔

اس کے بجائے خوراک کی پیداوار کے لیے پالے گئے گھریلو جانور جیسا کہ بکرے بکریاں بھی انسانی چہروں کو سمجھ سکتی ہیں۔

یہ تحقیق برطانیہ کے شہر کینٹ میں بٹرکپس سینچوری فار گوٹس میں کی گئی ہے۔

اس تحقیق کے شریک مصنف اور یونیورسٹی آف لندن سے منسلک ڈاکٹر الیکن مک الیگوٹ اور ان کے ساتھیوں نے ایک ایک مخصوص جگہ دیوار پر 1.3 میٹر کے فاصلے پر بلیک اینڈ وائیٹ تصاویر لگائیں۔ اس کے بعد ایک بکرے اور بکریوں کو یہاں کھلا چھوڑ دیا گیا۔

بکریوں کی نظر
محقیقین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بکریاں مسکراتے ہوئے چہروں کی جانب زیادہ متوجہ ہوئیں، وہ غصے والی تصاویر کی جانب جانے سے پہلے خوش چہروں کی جانب گئیں۔ انھوں نے اپنے نتھنوں کے ساتھ مسکراتے چہروں کا معائنہ کرتے ہوئے زیادہ وقت گزارا۔

لیکن ایسا صرف اسی صورت میں دیکھا گیا جب خوش مزاج چہروں والی تصاویر دائیں ہاتھ رکھی گئیں۔

جب خوشی کے چہروں والی تصاویر بائیں جانب رکھی گئیں تو بکریوں نے کسی جانب کوئی خاص توجہ نہ دی۔

محققین کا خیال ہے کہ ایسا اس لیے ہے کہ بکریاں معلومات کو سمجھنے کے لیے دماغ کے ایک جانب والا حصہ استعمال کرتی ہیں، ایسا دیگر جانوروں میں بھی دیکھا گیا ہے۔

محقیقین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بکریاں مسکراتے ہوئے چہروں کی جانب زیادہ متوجہ ہوئیں، وہ غصے والی تصاویر کی جانب جانے سے پہلے خوش چہروں کی جانب گئیں۔ انھوں نے اپنے نتھنوں کے ساتھ مسکراتے چہروں کا معائنہ کرتے ہوئے زیادہ وقت گزارا۔

لیکن ایسا صرف اسی صورت میں دیکھا گیا جب خوش مزاج چہروں والی تصاویر دائیں ہاتھ رکھی گئیں۔

جب خوشی کے چہروں والی تصاویر بائیں جانب رکھی گئیں تو بکریوں نے کسی جانب کوئی خاص توجہ نہ دی۔

محققین کا خیال ہے کہ ایسا اس لیے ہے کہ بکریاں معلومات کو سمجھنے کے لیے دماغ کے ایک جانب والا حصہ استعمال کرتی ہیں، ایسا دیگر جانوروں میں بھی دیکھا گیا ہے۔

ایسا ہو سکتا ہے کہ دماغ کا بائیں جانب والا حصہ مثبت جذبات سے منسلک ہوتا ہے یا پھر دماغ کے دائیں جانب والا حصہ غصیلے چہروں کو نظر انداز کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.