47

بنوں کے معزز خطیب مفتی عبدالغنی صاحب کی جلد بازی نے بنوں عوام کو تقسیم کردیا.

دی بنوں: بنوں کے خطیب مفتی عبدالغنی صاحب متعدل مزاج اور متبحر عالم دین ہے۔ اسکی شخصیت میں اعتدال ہے اور یہی آج کے اس ہیجان انگیز دور میں وقت کا تقاضا ہے۔ لیکن میری نظر میں مفتی صاحب کا کل کا فیصلہ جلدبازی میں تھا۔ 2002 کے اکتوبر میں پہلی دفعہ ایم ایم اے حکومت میں آئی۔ حکومت سازی کے کچھ دنوں بعد رمضان آیا اور رویت ہلال کا اجلاس پشاور میں ہوا۔ سردیوں کا موسم تھا لیکن اعلان رات کے 11 بجے ہوا۔ سردیوں میں 11 بجے کافی لیٹ ہوتا ہے۔ وجہ مولانا حسن جان صاحب کی موجودگی تھی انہوں نے مرکزی کمیٹی کو جلدی فیصلے سے روکا اور یوں اس سال عید و رمضان پورے پاکستان میں ایک ساتھ ہوئے۔ اسکے اگلے سال پختون دشمن مولویوں نے حسن جان صاحب کی بات نہیں مانی اور سات بجے اعلان کیا کہ ملک میں روزہ نہیں مولانا حسن جان صاحب نے اسی وقت اجلاس کے دوران اپنا استعفی’ پیش کیا اور اپنے گھر کی راہ لی۔ مولانا حسن جان صاحب کی شخصیت ایک روشن چراغ کی طرح تھی جس سے انکار ممکن نہیں مگر فرقہ پرست و متعصب مولوی جو رویت ہلال کمیٹی پر قابض تھے انہوں نے حسن جان صاحب جیسے صاحب کردار و متبحر عالم دین کی بھی قدر نہیں کی اور پختون دشمن و دیوبند دشمنی کی بنیاد پر پوری قوم کو تقسیم کرکے رکھا۔

کل بنوں کے خطیب جسکی شخصیت میں ٹھہراو ہے اعتدال ہے انہوں نے ان اوصاف کے باجود فاش غلطی کی اور جلدبازی میں اعلان کیا کہ کل روزہ نہیں۔ مفتی صاحب کی ویڈیو انٹرنیٹ پر کل رات سے فلوٹ ہو رہی ہے۔ اس ویڈیو میں مفتی صاحب فرما رہے ہیں کہ انکا پوپلزئی، ٹل، لکی اور اردگرد تمام علاقوں سے رابطہ ہوا کہیں سے مستند شہادتیں نہیں ملیں لہذا کل روزہ نہیں۔ اس ویڈیو میں اختصاص کے ساتھ مفتی صاحب نے اینٹی پشتون مفتی منیب کے فیصلے کا حوالہ دیکر اسکی تعریف کی۔

میں آج مفتی غنی صاحب سے پوچھتا ہوں جبکہ آدھے سے زیادہ بنوں کا روزہ ہے کہ اس قدر جلد بازی کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی بنوں کی تاریخ میں کبھی کوئی ایسا فیصلہ اس قدر جلدبازی میں نہیی ہوا۔ آپ کو کس نے ایسا فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔ اور اگر خود کیا ہے تو بھی قوم کو بتا دیں کہ مفتی پوپلزئی جو ہم سے صرف 180 کلومیٹر دور بیٹھا ہے اور پشاور و بنوں کے وقت میں 2 منٹ کا فرق ہے اسکے ساتھ روزہ رکھنے والے مسلمان ہیں یا نہیں؟ مفتی منیب نے تو کبھی پختونوں کے وجود کو تسلیم نہیں کیا ہے وہ کیسے ہماری شہادتیں قبول کر سکتا ہے۔

بنوں کے خطیب صاحب کو بتاتے ہیں کہ پختون نسل نے ہندوستان پر 350 سال حکومت کی ہے۔ خلجی و تغلق اور شیر شاہ سوری تک ایسے حکمران دیے جو صاحب بصیرت تھے۔ جن لوگوں کے آباواجداد پر پختون نسلوں نے حکومت کی انہوں نے انگریز کے آنے کے بعد پختونوں کو معاشرتی طور پر دبانے کا کام پختونوں پر لطیفے بنانے سے سٹارٹ کیا اور آج بھی وہ اپنی غلامی کا بدلہ پختون وجود کو نہ ماننے سے لے رہے ہیں۔ اس برباد ریاست میں پختون کی یہ عزت ہے کہ اسکی مسلمانی پر شک کیا جاتا ہے اور اسکی شہادتیں قبول نہیں کی جاتیں۔

مفتی پوپلزئی اور پشاور و چارسدہ کی عوام دوسرے سیارے سے نہیں آئے۔ پشاور ہمارا کیپیٹل ہے۔ جب کیپیٹل میں روزہ ہو تو فرض بنتا ہے کہ پورے پختونخوا کا ہو۔ افسوس کا مقام ہے کہ ایک متعبر و ذمہ دار عہدے پر فائز مفتی صاحب نے اپنے فرض منصبی کا احساس کئے بغیر اپنی ذاتی سوچ کو 12 لاکھ کی آبادی پر مسلط کر دیا۔ ہم مفتی تو نہیں لیکن اتنے سادہ مسائل بھی مفتیوں پر نہیں چھوڑتے جنہوں نے امت کو کبھی جوڑا نہیں بلکہ توڑا ہے۔ مفتی منیب سے تو گلہ نہیں کہ وہ اپنی صدیوں کی غلامی کا بدلہ ہم پختونوں سے لے رہا ہے گلہ تو بنوں کے پانی پینے والے مفتی غنی صاحب سے ہے کہ آخر وہ کیا چیز تھی جس نے اسے بنوں کی عوام کو تقسیم کرنے پر مجبور کیا۔؟ کسی کا دباو تھا یا فرض منصبی میں غفلت؟

بقلم خود انتظار خان مرزالیخلوی

https://www.facebook.com/profile.php?id=100000244486930

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.