36

بنوں کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دینگے: ڈپٹی کمشنر

ڈپٹی کمشنر بنوں محمد علی اصغر نے نیم قبائلی علاقے جانی خیل میں امن وامان کے حوالے سے پاک فوج کے کرنل محمد خرم کے ہمراہ منعقدہ عمائدین،منتخب بلدیاتی نمائندوں اور سرکاری محکموں کے آفسران پر مشتمل کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنوں میں کچھ عرصہ سے ناخوشگوار واقعات سے ایک بار پھر ملک دشمن عناصر نے بنوں کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے لیکن عوام مایوس نہ ہوں.
بنوں کے عوام، فوج اور پولیس نے اس سے مشکل خالات کا ڈٹ کے مقابلہ کیا ہے اور دہشت گردی آخری سانس لے رہی ہے ہاتھی نکل گیا ہے اور صرف دم باقی ہے اور جو آس پاس کے لوگ دہشت گردوں کے ساتھ تعاون کررہے ہیں دہشت گردوں کو معلومات فراہم کرنا،کھانا دینا،راستہ دکھانا یا پناہ دینا سب دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں عوام کا فرض بنتا ہے کہ وہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں پر نظر رکھیں اور ملک اور عوام دشمنوں سے متعلق پولیس،فوج،ضلعی انتظامیہ میں سے جس کو مناسب سمجھیں اور جس پر اعتماد کریں ان کو اطلاع دیں.
دہشت گردی کی صورت میں تکلیف اور نقصان مقامی لوگوں کا ہوگااور اگر امن ہوگا تو عوام کوچیکنگ سمیت دیگر تکالیف کا سامنا نہیں کرنا پڑیگا دہشت گردی کے خلاف لاء اینڈ فورسمنٹ ایجنسیاں،پولیس اور فوج سمیت حکومت سب ایک پیج پر ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام بھی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور چھپے ہوئے دشمنوں کو بے نقاب کریں انہوں نے مشران علاقہ کی شکایات پر ڈی ایچ او بنوں کو جانی خیل ٹائپ ڈی ہسپتال میں ڈاکٹروں کی فوری فراہمی اور جمعرات سے ہسپتال کو فعال کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ لیڈی سرچر کیلئے ڈی پی او بنوں سے درخواست کروں گا جبکہ مقامی سیکورٹی فوج فراہم کریگی اسی طرح سکولوں،بجلی اور سڑکوں سمیت دیگر مسائل کے حوالے سے بھی عوام کو یقین دہانی کرائی جس پر مقامی عمائدین اور منتخب نمائندوں نے ڈپٹی کمشنر بنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ترقیاتی کاموں اور امن کیلئے بھرپور ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی ڈپٹی کمشنر بنوں نے مذید کہا کہ حکومت نے 31جنوری سے آٹومیٹک اسلحہ پر پابندی لگائی ہے اور جوغیر ممنوعہ لائسنس یافتہ اسلحہ پولیس یا سیکورٹی فورسز نے چھاپوں کے دوران اٹھایا ہے وہ میرے دفتر سے رابطہ کریں واپس کیا جائیگا انہوں نے مذید کہا کہ بعض عناصر بنوں میں جاری بیوٹی فیکشن اور ترقیاتی کاموں پر صرف اسلئے تنقید کررہے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ بنوں میں ترقیاتی کام ہوں وہ بے بنیاد تنقید کرکے ہمارا وقت ضائع کرنے کے بجائے غلطیوں کی واضح نشاندہی کریں انہوں نے کہا کہ تنقید برائے اصلاح کا ہمیشہ خیر مقدم کیا ہے لیکن تنقید برائے تنقید والے ہمارے خوصلے پست نہیں کرسکتے ہیں اور بنوں کی ترقی کا سفر ہم عوام کے تعاون سے جاری رکھیں گے انہوں نے کہا کہ30جون کے بعد سیٹل میں آنے والے ایف آر کے سکول صوبائی حکومت کی تحویل میں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جسکے بعد ان سکولوں کی مرمت کی جائیگی جبکہ ایف آر میں سکولوں میں حاضری نہ کرنے والے اساتذہ سے ایک دن کی غیر حاضری پر10دنوں کی کٹوتی کی جارہی ہے جسکے بعد سکولوں میں اساتذہ کی حاضری میں بہتری آئی ہے انہوں نے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر بنوں کو ہدایت کی کہ وہ مروت کینال سے غیر قانونی کنکشن لینے والے پانی چوروں کے خلاف کینال اینڈ ڈرین ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرائیں جبکہ اراضی ملنے کی صورت میں جانی خیل میں کھیل کا میدان ضلعی اے ڈی پی میں شامل کریں گے اور آج کے بعد تمام محکمہ تعلیم کے سربراہان مہینے میں کم از کم تین بار سکولوں کا وزٹ کریں گے اور تصوریوں کے ذریعے ہمیں سکولوں کے حوالے سے رپورٹ پیش کرنے کے پابند ہوں گے.
کھلی کچہری سے شاکر وزیر،ڈسٹرکٹ ممبر سمندر خان،عبدالخالق احمد زئی اور دیگر مشران علاقہ نے بھی خطاب کیا اس موقع پراسسٹنٹ کمشنر UTشوذب عباس، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر طارق سلیم،عزیز اللہ جان،لینڈ انسپکٹر نذیر اللہ اعوان،ٹی ایم او بنوں،ڈی ایچ بنوں ،اے ڈی لوکل گونمنٹ بنوں اور دیگر متعلقہ محکموں کے آفسران بھی موجود تھیپاک فوج کے کرنل محمد خرم نے کہا ہے کہ جب تک دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا خاتمہ نہیں ہوگا دہشت گردی ختم نہیں ہوگی دہشت گردوں کی معاونت مقامی سہولت کار کررہے ہیں جو کہ مٹھی بھر ہیں دہشت گردی واقعات کی وجہ سے جانی خیل اور نورڑ روڈ پر کرفیو لگانا مجبوری ہے چیک پوسٹوں پر خواتین،بچوں،طلباء،معززین اور بزرگ شہریوں سے نرمی کی جاتی ہے اگر عوام چاہتے ہیں کہ کرفیو اور چیک پوسٹوں کا خاتمہ ہو تو دہشت گردوں اور انکی معاونت کرنے والے مٹھی بھر سہولت کاروں کے خلاف اطلاع دیں اور موت کا خوف دل سے نکال دیں کیونکہ موت نے جس طرح،جس وقت اور جس جگہ آنا مقرر ہے اسے کوئی نہیں ٹال سکتا ہے عوام اپنے آنے والی نسلوں کو محفوظ مستقبل دینے کیلئے دہشت گردوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور جانی خیل اقوام گرینڈ جرگہ کرکے دہشت گردی کے خلاف نفرت کا اظہار کریں ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیم قبائلی علاقہ جانی خیل میں امن وامان کے حوالے سے منعقدہ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کیا جسمیں ڈپٹی کمشنر بنوں،ضلی انتظامیہ کے آفسران اور قبائلی عمائدین نے کثیر تعداد میں شرکت کی کرنل محمد خرم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم ڈپٹی کمشنر بنوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ڈیڈھ ماہ قبل کھلی کچہری میں جو اعلانات کئے تھے ان میں سے اکثر پر عمل ہوا ہے بی ایچ یو سردی خیل،ڈسپنسی اور ٹائپ ڈی ہسپتال فوج نے خالی کئے ہیں صرف ہسپتال کے ایک حصے میں نفری موجود ہے جو کہ ہسپتال کی سیکورٹی کیلئے ہے ڈی ایچ او بنوں آج سے اسے تحویل میں لیں اور ڈاکٹر و عملہ فراہم کرکے اسے فعال کریں تاہم خواتین کیلئے لیڈی سرچر مقرر ہونے تک خواتین کو ورثاء یا غیر محرم کے بغیر داخلے کی اجازت نہیں ہوگیا انہوں نے کہا کہ پہلے کے مقابلے میںآج جانی خیل میں تعلیمی ماخول بہتر ہے تعلیم اور صحت میں بہتری آئی ہے جس سکول میں یہ کھلی کچہری منعقد کی گئی ہے اس میں53طلباء زیر تعلیم تھے اور20آرہے تھے اب ہم نے اس مٰں وائٹ پراجیکٹ کا اجراء کیا ہے اور135طلباء کو فنی تعلیم دی ہے دوسرے مرحلے میں بلڈنگ کی ناگفتہ بہ خالت کو بہتر بنایا ہے اور میٹرک تک تعلیم کیلئے سکول تیار ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ محکمہ تعلیم اسے اپنی تحویل میں لیکر اس میں میٹرک تک کلاسوں کا اجراء کریں اور عملہ فراہم کریں جبکہ سیکنڈ شفٹ میں ہم طلباء کو فنی تعلیم دیں گے انہوں نے کہا کہ ٹاپ ڈی ہسپتال میں آنے والے مریضوں اور عملے کو مکمل سیکورٹی فوج دیگی انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ بجلی چوری سے گریز کریں اور بجلی بل جمع کریں ،ہم بھی واپڈا سے رابطے میں ہیں تاکہ جگہ جگہ جائنٹ شدہ بوسیدہ تاریں تبدیل کرکے بجلی کا نظام بہتر بنایا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.