22

بنوں نئی حلقہ بندیوں کا فیصلہ الیکشن کمیشن واپس لے: اے این پی


عوامی نیشنل پارٹی بنوں نے حلقہ بندیوں میں رد و بدل اقوام کی تقسیم قرار دی ہے اور الیکشن کمیشن سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اے این پی کے سابق سینیٹر حاجی باز محمد خان ایڈووکیٹ ، ضلعی صدر حاجی عدالصمد خان،ناز علی خان، حاجی عبدالمتین خان ، انور خان باچہ و دیگر نے منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کے موقع پر کہا کہ نئی اور متنازعہ حلقہ بندیوں کے ذریعے بنوں کا حلیہ بگاڑدیا ہے حالیہ حلقہ بندی 1974ایکٹ کے تحت ڈویژن کی سطح پر آبادی کی بنیاد کی گئی ہیں لیکن بنوں کی آبادی بہت زیادہ ہے جس کی بنیاد پر ایک قومی اسمبلی حلقہ سمیت صوبائی حلقہ اضافی بنانے کا حق بنتا تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا بلکہ کسی کی خواہش کے مطابق صرف یونین کونسلوں میں رد و بدل کرکے ایک دوسرے حلقہ جات میں ضم کیا گیا۔ الیکشن کمیشن بھی اس حوالے سے وضاحت کرے کہ سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لئے بغیر حلقہ بندیوں کو کیوں چھیڑا گیا ۔ووٹ اور الیکشن عوام کیلئے ہوتے ہیں اور عوام کی رائے کو ہی نظر انداز کر دیا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نوٹس لے کر تمام پرانی حلقہ بندیاں بحال کرے ۔تمام سیاسی جماعتیں اس حوالے سے رابطوں میں ہیں اور اپنی لیگل ٹیمیں بھی تشکیل دے رہی ہیں۔ جو اس حوالے سے کیس آگے بڑھائیں گی ۔الیکشن ہر صورت اپنے مقررہ وقت پر ہونے چاہئیں اور نئی حلقہ بندیوں کے ذریعے گڑ بڑ کرنے والے ہی در اصل انتخابات کا التوا چاہتے ہیں۔بنوں کے عوام کے خلاف ہونے والی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے ل۔ہذا نئی حلقہ بندی کا فیصلہ واپس لیکر عوام اور تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.