58

بنوں میں مغلوں اور درانیان کا دور

ویسے زمانہ قدیم سے ہی افغانستان اور ہندوستان کی سرحد پر ہونے کی وجہ سے بنوں پر مسلمان جرنیلوں اور سلاطین کے نقشِ پا پائے جاتے ہیں۔ مثلا 44ھ میں عسکری جرنیل بو صغرٰی آئے اور بنوں کو فتح کیا۔ اس طرح محمود غزنوی اور سلطان محمود غوری آئے بعد میں مغل بادشاہ بابر بنوں آئے جس کا ذکر تزکِ بابری میں موجود ہے۔ مگر پہلی بار اورنگزیب کے دور میں مغلوں نے بنوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور شہزادہ بہادر شاہ خود بنوں آئے اور جھنڈو خیل کے قریب شاہ کوٹ کا قلعہ فتح کیا۔
اصالت خان گھکڑ کو بنوں کے انتظام کے لیے چھوڑا۔ جس کو مروت اور بنویان نے مل کر بنوں سے نکال باہر کیا۔ اس کے بعد شہزادہ بہادر نے جلال آباد سے افواج روانہ کیں۔ لیکن راستے میں ہی وزیر قبائل کے ہاتھوں اُن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد شہزادے نے ناصرخان کو بھیجا جس نے وزیر قبائل کے ساتھ تدبر سے کام لیا اور راستہ صاف کرکے بنوں پہنچے۔ بنوں کے لوگ کچھ فرار ہوئے اور کچھ نے اطاعت قبول کر لی۔ اس کے بعد مباذر خان کو بنوں کا فوجدار مقرر کیا گیا۔ لیکن پھر بھی یہ مغل بنوں کو زیر نہ کر سکے اور پھر سے مروت اور بنوں قبائل خود سر ہو گئے۔ پھر اس کے بعد یہ معمول ہو گیا کہ مغل سردار سال بسال یا جب بھی موقع ملا کابل کی طرف سے بنوں پر عام شورش کرتے لوٹ مار کا بازار گرم ہو جاتا۔ تباہی اور بربادی مچاتے قلنگ وصول کرتے وصولی کے مقابلے فوج کا خرچ زیادہ پڑتا۔
نادر شاہ درانی بھی بنوں پر حملہ آور ہوا بنوں کے علاقوں سے گزرتے ہوئے اسے کچھ مزاحمت کا سامنا کر پڑا جس کی وجہ سے اس نے یہاں قتل عام کیا اور بے شمار لوگوں کو قتل کیا۔
اس کے بعد جب احمد شاہ ابدالی تخت نشین ہوئے تو سردار خان سپہ سالار افغانستان سے براستہ ڈاوڑ بنوں آیا۔ چونکہ ظلم نادری کی یادیں ابھی تازہ تھیں بنوں کے لوگوں نے فورا اطاعت قبول کر لی اور مقرہ لگان ادا کیا۔ اس کے بعد احمد شاہ ابدالی بذات خود دوبارہ بنوں آئے اور احمد شاہ ابدالی کو بنوں کے باسی اچھے نام سے یاد کرتے ہیں۔ وہ بڑے رعایا پرور سمجھے جاتے تھے۔ انھیں بابائے افغان بھی کہا جاتا ہے۔ انھوں نے یہاں پر مردم شماری کروائی۔ اسی نسبت سے لگان کا حصہ مقرر کیا۔ اس کے بعد 1771ء میں تیمور شاہ بنوں آئے اور چند سادات خاندانوں کا لگان معاف کیا۔ شاہ زمان پسر تیمور شاہ کے دور میں متعدد سردار بنوں آئے اور لگان وصول کیا۔ محمود شاہ درانی بھی قلنگ کی وصولی کے آئے لیکن اس کے بعد کوئی درانی حاکم بنوں نہیں آیا۔ کیونکہ افغانستان کی حکومت کمزور پڑ چکی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں