48

بنوں بچاو تحریک

دی بنوں : متحدہ بنوں محاذ کے زیر اہتمام ” بنوں بچاو تحریک “لانچ کرنے کے لئے بنوں پریس کلب میں ایک گرینڈ جرگہ ہوا ۔گرینڈ جرگے میں بنوں کے اہم سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ اگرچہ کسی ایم پی اے یا ایم این اے نے شرکت نہیں کی لیکن سیاسی جماعتوں میں تمام کی نمائندگی موجود تھی۔ شرکت کرنے والوں میں تحصیل ڈومیل کے فدا محمد وزیر، ڈسٹرکٹ ممبر ملک شکیل خان، پی ٹی ائی کے رہنماء شب نیاز خان، ڈسٹرکٹ ممبر ملک دلنواز خان، مسلم۔ لیگ ن کے رہنما ملک نواب خان، ختم نبوت ضلع بنوں کے امیر حافظ ستار صاحب،انصاف یوتھ ونگ کے ضلعی صدر ملک سلیمان غزنوی، عوامی نینشل پارٹی کے ضلعی صدر عبدالصمد خان، نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے جنرل سیکرٹری قیموس خان، سماجی کارکن خان ریاض خان، قومی وطن پارٹی کے رہنما ملک فرمان خان، جماعت اسلامی کے روف قریشی اور پی پی پی کے رہنماء ملک گل بہادر خان سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔
اس میٹنگ میں بنوں کو درپیش اہم ترین مسائل پر بات ہوئی۔ جس میں سرفہرست بنوں کو دوسرے قومی حلقے سے محرومی کا ایشو تھا۔ تمام مقررین نے بنوں کو قومی حلقے سےمحرومی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ مقررین نے بنوں کے قومی و صوبائی ممبران کی نااہلیت اور قومی ایشوز پر خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا۔ تمام شرکاء اور مقررین نے اس بات کا اعلان کیا کہ بنوں کے ساتھ گومل یونیورسٹی منتقلی ،انڈس ہائی وے منتقلی کے بعد بنوں کا حلقہ ڈی۔ ائی خان و ٹانک کو دینا بنوں کے ساتھ ظلم عظیم ہے۔ یہ ظلم مزید برداشت نہیں کریں گے بنوں وزیر بنوسی خٹک اور مروت قوم کا مشترکہ گھر اور دھرتی ماں ہے۔ بنوں کو دوسرا حلقہ اگر نہ دیا گیا تو نہ ختم ہونے والا احتجاج شروع کریں گے۔ مشران نے نوجوانوں کی طرف سے اس تحریک کے آغاز پر انکو شاباش دی اور نوجوان کی اس تحریک کی کامیابی کی نودید سنائی۔ ملک نواب خان نے کہا کہ ایسی تحاریک سیاست پر قابض سیاستدانوں کو پسند نہیں ہوتیں لہذا اگر کوئی ساتھ نہ دیں تو نہ دیں ان سے امید نہ رکھیں اپنے بل بوتے پر عوامی طاقت سے اس تحریک کو آگے لیجائیں۔ حافظ ستار صاحب نے اس تحریک میں تن من دھن کی قربانی دینے کی پیش کش کی۔ اور وعدہ کیا کہ بنوں کی خاطر ضعیف العمری کے باوجود اگر بھوک ہڑتال بھی دینی پڑی تو تادم مرگ بھوک ہڑتال کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے تاریخ سے چند واقعات سنائے۔ فرمایا کہ ایک دفعہ غلام اسحق خان سے میں ملا اور بنوں کے لئے کام نہ کرنے کا گلہ کیا۔ تو غلام اسحق خان نے جواب دیا کہ بنوں کے لوگ سیاسی طور پر بیدار نہیں اور اپنے حقوق انکو معلوم ہی نہیں۔
اس گرینڈ جرگے میں بنوں کے اہم وکلاء نے اپنی خدمات پیش کیں۔عرفان پیزادہ اور ملک شوکت نے بنوں کے لئے عدالتی جنگ میں ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ بنوں پریس کلب کے صدر عالم خان نے پریس کی جانب سے بنوں کے قومی ایشوز میں بھرپور ساتھ دینے کا اعادہ کیا۔ جرگہ کے آخر میں قراداد پیش کی گئی جس میں الیکشن کمیشن سے بنوں کے صوبائی حلقوں میں غیر فطری ردوبدل واپس لینے اور بنوں کو دوسرا قومی حلقے کی اپیل کی گئی۔ کمشنر بنوں سے کہا گیا کہ 8 گناہ زیادہ پراپرٹی ٹیکس واپس لیا جائے۔ تھیلیسمیا سنٹر بنوں زنانہ ہسپتال واپس لانے کی قرارداد بھی منظور ہوئی۔
جرگے نے متفقہ فیصلہ کیا کہ 28 مارچ سے روزانہ بنوں پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا اگر اس سے کام نہ ہوا تو سخت احتجاج کے لئے قوم کو موبلائز کیا جائے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں