46

بلوچستان: موٹروے پولیس سے ’منظور شدہ‘ اونٹ

گذشتہ سال مئی میں بلوچستان کے سیاحتی ساحلی علاقے کنڈ ملیر سے تفریح کے بعد واپسی پر کراچی کے ایک سیاح خاندان کی گاڑی سڑک پر اچانک سامنے سے آنے والے اونٹ سے ٹکرا گئی، اس حادثے میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔

یہ اس طرح کا پہلا حادثہ نہیں ہے ماضی میں بھی گاڑیوں کے اونٹوں سے ٹکرانے کے باعث حادثات پیش آتے رہے ہیں۔

لیکن مستقبل میں ان حادثات سے محفوظ رہنے کے لیے موٹروے پولیس نے اب مقامی سطح پر ’ارلی وارننگ سسٹم‘ متعارف کرایا ہے۔

کراچی سے بلوچستان جانے کے لیے آپ جیسے ہی ریجنل کوآرڈینیشن ڈویلپمنٹ روڈ یعنی آر سی ڈی پر عازم سفر ہوں گے تو راستے میں سٹرک کنارے کئی مقامات پر اونٹ کی شبیہہ والے سائن بورڈ نظر سے گزریں گے جن کا مقصد اس سٹرک پر سفر کرنے والوں کو یہاں اونٹوں کی موجودگی سے باخبر کرنا ہے۔

ان انتباہی بورڈز کے باوجود کبھی کبھار یہاں سے گزرنے والی گاڑیاں بھاری بھر کم اونٹوں سے ٹکرا جاتی ہیں۔

یہ ون وے سڑک انتہائی مصروف رہتی ہے جو ایران کے سرحدی علاقے تافتان اور افغانستان کے سرحدی علاقے چمن اور گودار شہر تک رسائی دیتی ہے۔

ارلی وارننگ نظام کیا ہے؟
موٹروے پولیس نے حادثات پر قابو پانے اور اونٹوں اور مسافروں کی حفاظت کے پیشِ نظر اونٹوں کی گردنوں اور ٹانگوں میں ریفلیکٹرز پہنانا شروع کر دیے ہیں، جو دور سے روشنی پڑنے پر چمکتے ہیں۔

ڈی ایس پی مسرور علی کے مطابق ان کے پاس وینائل شیٹس ہیں۔ اونٹ کی گردن کا ناپ لے کر کالر بنائے جاتے ہیں۔ ان کے ذریعے دن ہو یا رات جب بھی اونٹ سڑک کراس کرے گا تو وہ دور سے نظر آ جائے گا اور لوگ حادثات سے محفوظ رہیں گے۔

عرب ممالک بھی اونٹوں کی چہل پہل سے پریشان
سعودی عرب کی ٹریفک سیفٹی کمیٹی کے مطابق 90 فیصد سے زائد سڑک کے حادثات اونٹوں کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ روزنامہ عرب نیوز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں پانچ لاکھ کے قریب اونٹ ہیں جن میں سے 43 فیصد ریاض میں موجود ہیں۔

اسرائیل بھی اونٹوں کی وجہ سے پیش آنے والے ٹریفک حادثات سے پریشان ہے۔ ان حادثات کی روک تھام کے لیے اونٹوں کے گلے میں بیلٹ کے ساتھ ڈیجیٹل چپ بھی لگائی جاتی ہے جبکہ بعض حادثوں میں اونٹ کے مالک کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

سعودی حکومت نے ایسے حادثات سے بچنے کے لیے اونٹوں میں ٹریکر لگانے اور چمکدار پٹی پہنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

موٹروے پولیس کو یہ خیال کہاں سے آیا؟
ڈی ایس پی مسرور علی موٹروے پولیس میں روڈ سیفٹی شعبے میں کام کرتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سکولوں اور کالجوں سمیت مختلف مقامات پر جا کر روڈ سیفٹی پر آگاہی فراہم کرتے ہیں اور اس حوالے سے تحقیق بھی کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ بیرون ملک دورے کے دوران انھوں نے دیکھا کہ گائے سڑک پر آ رہی تھی اور ان پر انھوں نے پینٹ کر کے لکھا تھا کہ آہستہ گاڑیں چلائیں۔

’لسبیلہ میں لوگ اونٹوں کو کھلا چھوڑ دیتے ہیں اور وہ جنگل میں گھومتے رہتے ہیں۔ اس دوران ہائی وے بھی عبور کرتے ہیں جس سے حادثات پیش آتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ ان پر بھی ایسے ہی بیلٹ باندھے جائیں۔‘

اونٹ پکڑنا آسان نہیں
اونٹ کو قابو میں لانا ایک مشکل عمل ہے اور انہی مشکلات کا سامنا موٹروے پولیس کو بھی کرنا پڑا ہے۔ ڈی ایس پی مسرور علی کا کہنا ہے کہ وہ اونٹوں کو باندھ نہیں سکتے اور گاؤں والوں کو مجبور بھی نہیں کر سکتے کہ اونٹ کو سڑک پر نہ آنے دیں۔

’سڑک کے ساتھ جو آوارہ اونٹ گھوم رہے ہوتے ہیں، انھیں پکڑنا بھی چاہیں تو پکڑ نہیں سکتے۔‘

’ہم آس پاس کے دیہاتوں میں گئے اور اونٹوں کے مالکان سے بات کی۔ جب مالک خود اونٹ کو پکڑ لیتا تو ہم اس کو یہ پہناتے تھے، اس وقت تک ہم 21 سے 22 اونٹوں کو یہ بیلٹ پہنا چکے ہیں۔ اس کے ساتھ مقامی لوگوں کو اپنے رابطہ نمبر دے دیے ہیں، جیسے جیسے بتاتے رہیں گے اس تعداد میں اضافہ ہوتا جائے گا۔‘

اونٹ، پہاڑ اور ریت ایک جیسے
پاکستان میں جانوروں کے حوالے سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 12 لاکھ کے قریب اونٹ موجود ہیں۔ اونٹوں کی اس آبادی کا 36 فیصد حصہ بلوچستان میں ہے، اس کے بعد پنجاب، سندھ اور پھر خیبر پختونخوا کا نمبر آتا ہے۔

بلوچستان میں یہ اونٹ گوادر، تربت، آواران، چاغی اور لسبیلہ اضلاع میں سواری اور مال برداری کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ پنجاب میں چولستان جبکہ سندھ میں تھر، کوہستان اور ساحلی علاقوں ٹھٹہ، سجاول کے علاوہ عمرکوٹ اور سانگھڑ میں بھی اونٹ پالے جاتے ہیں۔

پاکستان عرب ریاستوں کے لیے اونٹ ایکسپورٹ بھی کرتا ہے۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ایک افسر کے مطابق اونٹ کا رنگ پہاڑوں اور ریت جیسا ہونے کی وجہ سے یہ عام ماحول میں باآسانی کیمو فلاج ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے کوسٹل ہائی وے، کوئٹہ تافتان روڈ اور لسبیلہ ضلعے میں سڑک حادثات پیش آتے ہیں۔

آزمائشی منصوبہ
موٹروے پولیس کی جانب سے اونٹوں سے محفوط رہنے کا یہ منصوبہ آزمائشی بنیادوں پر حب سے بیلہ تک پھیلے ہوئے اوتھل سیکٹر میں جاری ہے۔

ڈی ایس پی مسرور کے مطابق اس کالر میں مزید بہتری لائی جا رہی ہے۔

آئی جی موٹر وے اے ڈی خواجہ نے انھیں مشورہ دیا ہے کہ کالر کے درمیان میں ایک ریفلیکٹر لگایا جائے، اس کے علاوہ ایسی گھنٹی ساتھ میں ہو جو بجنے کے ساتھ چمکتی بھی ہو۔ اب وہ یہ خصوصی کالر تیار کر رہے ہیں۔

مسرور علی کے مطابق وہ اس کالر بیلٹ کو اونٹوں تک محدود رکھنا نہیں چاہتے۔

’اکثر گدھے بھی گاڑیوں سے ٹکراتے ہیں جو کھڑے ہو کر سوتے ہیں۔ ان میں سے بعض سفید اور بعض سیاہ ہوتے ہیں اس لیے دور سے نظر نہیں آتے۔‘

وہ چاہتے ہیں کہ ان گدھوں کے لیے بھی ایسے بیلٹ بنائے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.