46

’برطانیہ میں تین اپریل مسلمانوں کو سزا دینے کا دن مقرر‘

برطانیہ میں انسدادِ دہشت گردی کی پولیس ملک کے مختلف شہروں میں متعدد افراد کو ملنے والے اس نفرت انگیز خط کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہے جس میں مسلمانوں پر حملوں کی ترغیب دی گئی ہے۔

اس خط میں 3 اپریل کو ’پنش اے مسلم ڈے‘ یعنی مسلمانوں کو سزا دینے کا دن، کے طور پر منانے کا کہا گیا ہے۔

خط میں مسلمانوں کے خلاف مختلف پرتشدد اقدمات اور ان کے نتیجے میں ملنے والے ’پوائنٹس‘ کا ذکر ہے۔

’لندن میں مسلمان خوفزدہ ہیں‘

’ہم اپنے ملک میں مسلمانوں کی بڑی تعداد نہیں چاہتے‘

نفرت پر مبنی اس خط کے حوالے سے لندن پولیس نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی یونٹ کے افسران اس خط کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق ان کو اس حوالے سے متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

کاؤنٹر ٹیرر ازم پولیس کے چیف سپریٹینڈینٹ مارٹن سنوڈن کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم مذہب کی بنیاد پر نفرت کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور افسران اس حوالے سے ملنے والی اطلاعات کی مکمل تحقیقات کریں گے۔‘

مارٹن سنوڈن کے بقول ’ ان خطوط کا مقصد مسلمانوں کو ڈرانا اور ان کے جذبات کو مجروح کرنا ہے۔ اس کے ساتھ وہ ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

برطانیہ میں مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پر نظر رکھنے والے فلاحی ادارے ’ٹل ماما‘ کے مطابق اس حوالے سے انھیں مختلف شہروں سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ٹل ماما کے مطابق اس خط میں مسلمانوں کے خلاف پر تشدد کارروائیاں کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جس کے بعد ملک کی مسلمان کمیونیٹی میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔

برطانیہ میں حکمران جماعت کے ممبر پارلیمنٹ اور وزیر برائے لوکل گورنمنٹ ساجد جاوید نے اس بارے میں ٹوئٹر پر ایک پیغام میں لکھا ہے کہ ’مسلم مخالف خطوط کے حوالے سے پریشان کن اطلاعات سامنے آئی ہیں، میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ برطانوی مسلمانوں کا یہ حق ہے کہ وہ حملوں کے خوف سے آزاد زندگی گزار سکیں، ہم نفرت پھیلانے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کریں گے۔‘

ادھر گزشتہ روز پاکستانی نژاد رکنِ پالیمنٹ محمد یاسین کو بھی ایک مشکوک پارسل بیجھا گیا تھا جس کو پولیس نے قبضے میں لے لیا تھا تاہم اس پارسل سے کوئی نقصان دہ چیز برآمد نہیں ہوئی۔

محمد یاسین نے جو آج برطانوی ایوانِ زیریں کی کارروائی میں شریک تھے، بی بی سی اردو کو بتایا کہ مشکوک پارسل کے بارے میں وہ اس وقت صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ پولیس کی تحقیقات جاری ہیں۔

خیال رہے کہ محمد یاسین کو یہ پارسل پارلیمنٹ کے پتے پر بھیجا گیا تھا۔

پاکستانی نژاد رکنِ پارلیمنٹ محمد یاسین کو بھیجے گئے اس پارسل کو بھی نفرت پر مبنی خطوط کی کڑی کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.