36

برطانوی پنجابیوں کا شراب نوشی کا مسئلہ

برطانیہ میں بسنے والے پنجابی ایک ایسی لت میں مبتلا ہیں جس کا سب کو معلوم ہے لیکن کوئی نہ تو اسے تسلیم کرتا ہے اور نہ اس سے چھٹکارہ پانے کے لیے کوئی مدد لینے کو تیار ہے۔

پنجابی ثقافت میں شراب نوشی کو پرکشش بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور یہ ہی رویہ پنجابی شرابیوں کو اپنے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوئی بیرونی مدد لینے سے روک رہا ہے۔

ہرجندر اپنی بیٹی جسپریت کو رات سونے سے پہلے کہانی سناتے سناتے خود بھی بیٹی کے بستر پر سو گئیں۔ ہرجندر کا شوہر جب رات دیر سے شراب خانے سے گھر آتا ہے تو وہ یہ دیکھ کر سخت طیش میں آجاتا ہے کہ اس کی بیوی اپنے بستر میں سونے کے بجائے بیٹی کے ساتھ سو رہی ہے۔ ہرجندر کے شوہر اس بستر کو الٹا دیتے ہیں۔ ہرجندر کمرے میں موجود ریڈیئیٹر سے جا کر ٹکراتی ہیں اور ان کی بیٹی ان کے اوپر گرتی ہے۔ ہرجندر کا بیٹا ساتھ والے کمرے میں سو رہا ہے۔

جسپریت اور ان کے بھائی ہردیپ کو بچن میں اس طرح کے بے شمار واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔ جسپریت کہتی ہیں کہ والد کا بستر کو الٹ دینے کا واقعہ دل توڑنے والا تھا۔

ایک روز ہرجندر (ماں) اپنے سولہ سالہ بیٹے ہردیپ کو اپنے باپ کے ساتھ تکرار کے بعد اپنے کمرے میں وسکی پیتے ہوئے دیکھتی ہے تو وہ یہ سوچ کر کہ اس کا بیٹا بھی باپ کے نقش قدم پر چل رہا ہے، خوف میں مبتلا ہو جاتی ہے۔

برطانیہ میں سکھوں کی تعداد چار لاکھ تیس ہزار ہے۔ ہرجندر بھی سکھ ہے اور جس طرح کے حالات کا سامنا انھیں رہا ہے یہ سکھ معاشرے میں کوئی چھپی بات نہیں۔

بی بی سی کی ایما پر ہونے والے ایک سروے میں یہ سامنے آیا ہے کہ باوجود اس کے کہ سکھ مذہب میں شراب نوشی کی ممانعت ہے، ستائیس فیصد برطانوی پنجابیوں کو سکھ خاندانوں میں شراب نوشی کی لت کے واقعات کا علم ہے۔ لیکن یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر کوئی پنجابی بات کرنے پر راضی نہیں ہے۔

ہرجندر کی ارینجڈ میرج تھی اور جب وہ سسرال آئی تو وہ یہ جان کر حیران رہ گئیں کہ ان کے سسرالی خاندان کی سماجی زندگی کثرتِ شراب نوشی کے گرد گھومتی ہے۔

پنجابی خاندان جب اپنے بچوں کے ہمراہ دوستوں کے گھر جاتے ہیں تو وہاں سے واپسی کے لیے انھیں رات گئے تک انتظار کرنا پڑتا ہے کیونکہ مرد شراب نوشی میں مشغول ہو جاتے ہیں۔

ریو سکھون ایک برطانوی پنجابی فزیوتھراپسٹ ہیں۔ وہ کہتے ہیں:’ پنجابیوں میں خاندانی غیرت کا نظریہ بہت مضبوط ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ کسی کو پتہ چلے کہ ان کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے اور وہ کمزور ہیں۔‘

سنجے بھنڈاری ایک پنجابی ہندو ہیں۔ وہ لندن میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں پارٹنر ہیں۔ وہ اب شراب کی لت سے چھٹکارا پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ان کے والد کا انتقال ہوا تو وہ پندرہ برس کے تھے اور اس وقت سے انھوں نے شراب پینی شروع کی۔ سنجے بھنڈاری اب تیس کے پیٹے میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں ‘پچھلے سات برسوں سے کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب میں نے شراب نوشی نہ کی ہو۔’

سنجے بھنڈاری کہتے ہیں کہ ان کی شراب نوشی کی لت میں پڑنے کی وجہ میں پنجابی پس منظر کا بڑا عمل دخل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پنجابی ہونے کی وجہ سے انھیں یہ تسلیم کرنے میں دقعت ہو رہی تھی کہ شراب نوشی اب ان کے لیے ایک مسئلہ بن چکی ہے۔ بالاخر وہ الکحول انانیموس (بےنام شرابی) گروپ کے پاس گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنی پنجابی کمیونٹی میں شراب کے مسئلے سے چھٹکارے کے لیے کسی مدد کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

برطانوی پنجابی شرابی کیوں ہوئے
جب پنجابی پچاس، ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں برطانیہ آئے تو انھیں طرح طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ انھیں یہاں محنت مزدوری کر کے پیچھے اپنے خاندانوں کو رقم بھیجنی ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ نئے معاشرے میں جذب ہونے، مزدوری کے لمبے اوقات اور مقامی زبان کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پڑنے والے دباؤ نے کئی پنجابیوں کو شراب نوشی کا سہارا لینے پر مجبور کیا۔

جینیفر شرگل برطانیہ کے ویسٹ مڈلینڈ کے علاقے میں سکھ مردوں کو شراب نوشی کی لت سے چٹھکارا دلانے میں مدد کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بے تحاشہ شراب پینے کے برطانوی رواج اور پنجاب میں شراب پینے کے کلچر نے مل کر ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے جس میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے بیرونی مدد حاصل کرنا ضروری ہو چکا ہے۔

ہرجندر کے شرابی شوہر کی وجہ سے ان کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ باوجود اس کے ہرجندر کا شوہر دن بدن متشدد ہو رہا تھا وہ کسی سے مدد لینے کو تیار نہ تھیں۔ وہ کہتی ہیں ان کے سسرالی خاندان نے انھیں باور کرا دیا تھا کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ نارمل ہے۔

ہرجندر کا معاملہ اس وقت کھلا جب وہ ڈاکٹر کے پاس گئیں اور ڈاکٹر نے ان کے جسم پر آنے والی ضربوں کو بھانپ لیا اور تب انھیں پتہ چلا کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ نارمل نہیں ہے۔

بالاخر ہرجندر نے پولیس کو بلایا۔ پولیس نے ہرجندر اور ان کے بچوں کو ہرجندر کے والدین کے گھر منتقل کر دیا۔ اس کے باوجود ان کے شوہر نے اپنی غلطی تسلیم نہیں کی۔

ہرجندر کہتی ہیں کہ میرے شوہر کو معلوم ہے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے وہ غلط ہے لیکن اس کی مردانہ غیرت اس کو یہ قبول کرنے سے روک رہی ہے۔

جنیفر شرگل سمجھتی ہیں کہ پنجابی خاندانوں میں ‘بدنامی’ کا ڈر بڑا مسئلہ ہے اور اسی وجہ سے وہ شراب نوشی کی لت سے پیدا ہونے والے مسائل کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

جینفر شرگل شانتی پروجیکٹ میں کام کرتی ہیں جو برمنگھم میں پنجابی کمیونٹی میں شراب نوشی کے مسئلے پر کام کرتا ہے۔

کراؤن پراسیکیوشن نے ہرجندر سنگھ کے خاوند کے خلاف ناکافی ثبوت ہونے کی وجہ سے مقدمہ نہ دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہرجندر اور ان کے بچے ایک بار پھر اسی گھر میں واپس جا چکے ہیں جہاں ان کا شوہر رہائش پذیر ہے۔

ہرجندر کے سسرال والوں نے انھیں یقین دلایا کہ ان کا شوہر اب شراب نوشی چھوڑ چکا ہے اور اب ان کے گھر کے حالات بدل جائیں گے۔

ہرجندر کے شوہر نے شراب نوشی ترک نہیں کی اور وہ اب بھی اپنے شوہر کے ساتھ ہی رہ رہی ہیں۔ ہرجندر کی بیٹی جو بیس سال کی ہو چکی ہے، اپنی ماں کو مسلسل کہہ رہی ہے کہ اپنے شوہر کو چھوڑ دو۔

ہرجندر کہتی ہیں: ‘میں نے اپنے شوہر کو چھوڑنے پر بہت غور کیا۔ کئی دفعہ سوچتی ہوں اس عمر میں اس مصیبت کو جھینلے کا کیا فاہدہ۔ پھر خیال آتا ہے۔ اگر مجھے اور بیس سال یہ ہی سہنا ہے تو یہ اچھا نہیں ہے۔ میں سمجھتی ہوں اب یہ ہو سکتا ہے’۔

٭٭٭اس کہانی میں ہرجندر اور ان کے خاندان کے نام تبدیل کیے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.