57

باجی جیسنڈا سے بے بی بلاول تک

38سالہ جیسنڈا آرڈرن نیوزی لینڈ کی 40ویں وزیراعظم اپنے ملک کی گزشتہ ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں سب سے کم عمر وزیراعظم۔نیوزی لینڈ کی لیبر پارٹی کی مایہ ناز رہنما، اک سوشل ڈیمو کریٹ ترقی پسند، فیمنسٹ جنہوں نے 2017ء میں اقتدار سنبھالا اور 2019ء میں اک عالمی مدبر کے طور پر ابھر کے سامنے آئیں اور سپر پاورز کے رہنما ان کے سامنے عام سے دکھائی دینے لگے۔ آپ نے خاموشی سے دنیا کو بتا دیا کہ لیڈر کسے کہتے ہیں، لیڈر شپ کسے کہتے ہیں اور سٹیٹس مین شپ کیا ہوتی ہے، انسانیت کے تقاضے کیا ہیں اور عصر حاضر کو کن انسانی رویوں کی ضرورت ہے جن کے بغیر یہ کرۂ ارض جہنم بھی بن سکتا ہے۔آپ نیوزی لینڈ کے شہر ہملٹن میں 26جولائی 1980ء کو پیدا ہوئیں اور بچپن کا کچھ عرصہ اک معمولی سے قصبہ ’’مراپورا‘‘ میں گزارا، دو بہنوں میں سے چھوٹی جیسنڈا کے والد اک ذمہ دار لاء انفورسمنٹ افسر تھے جو بعد ازاں ہائی کمشنر کے عہدہ تک پہنچے۔ آپ کی والدہ ایک سکول میں کیٹرنگ اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتی تھیں۔جیسنڈا نے 2001ء میں UNIVERSITY OF WAIRATOسے کمیونیکیشن سٹڈیز میں گریجویشن کی اور تعلیم کے دوران ہی 17سال کی عمر میں لیبر پارٹی میں شمولیت اختیار کر کے عملی سیاست کا آغاز کر دیا۔گریجویشن کے بعد ایک ریسرچر کے طور پر اپنی سیاسی گورو اور اس وقت کی وزیراعظم نیوزی لینڈ ہیلن کلارک کی ٹیم میں شامل ہو گئیں۔ آپ کے سیاسی کیریئر کا یہ پہلو خاصا دلچسپ ہے کہ آپ نے اڑھائی سال تک برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر کے آفس میں ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کیا۔ 2005ء میں اپنا مذہبی عقیدہ اس وقت ترک کر دیا جب وہ ان کے ذاتی خیالات سے متصادم ہوا۔ آپ کے شریک زندگی کلارک گے فورڈ ایک ٹی وی پریزنٹر ہیں اور جون 2018ء میں جب وہ وزیراعظم تھیں، قدرت نے انہیں اک بیٹی سے نوازا اور یوں وہ ممتا مکمل ہو گئی جس کا خیرہ کن مظاہرہ اک عالم نے اس وقت دیکھا جب معصوم بے گناہ مسلمان نمازی اک مقامی انسان نما درندے کے پاگل پن کا نشانہ بنے اور جیسنڈا نے اس کا نام نہ لیتے ہوئے، اسے مکمل طور پر ڈِس اون کرتے اور دھتکارتے ہوئے کچھ ایسا کہا کہ یہ قاتل ہمارا نہیں، مقتول ہمارے ہیں۔جیسنڈا نے کبھی نہ بھلائی جانے والی اس ٹریجڈی پر کیا کہا….کیا کیا اسے بیان کرنے کے لئے دنیا کی کسی زبان کی کسی لغت میں کوئی لفظ نہیں کہ کچھ باتیں صرف محسوس ہی کی جا سکتی ہیں، بیان نہیں کی جا سکتیں۔اپنی تاریخ پیدائش کی روشنی میں جیسنڈا برج سرطان اور لیو کا آئیڈیل ملاپ ہیں۔ سرتاپا ممتا، محبت، حساسیت، ہمدردی، شفقت، انسان دوستی کی اعلیٰ ترین مثال اور آج کی مغربی دنیا میں ان جذبات کے دو ٹوک، دلیرانہ اظہار کی جرأت جو LEO (شیر) کی خصوصیت ہے ورنہ سپر پاور کے سربراہ کو وہ شٹ اپ کال شاید نہ ملتی جو اس نے خود طلب کی تھی۔ڈھلی ڈھلائی ماں اور بنی بنائی بڑی بہن، باجی، آپا جیسنڈا نے اپنی کم عمری کے باوجود عالمی قیادتوں کو جو لازوال ابدی پیغام دیا اس میں یہ بھی شامل ہے کہ چھوٹے ملک بھی بہت بڑی قیادتوں کو جنم دے سکتے ہیں اور بہت بڑے ملکوں کے اقتدار پر بونے اور بوزنے بھی براجمان ہو سکتے ہیں۔ ہمارے کلچر میں چھوٹی بہنوں کو بھی محبت اور احترام سے باجی یا آپی کہا جاتا ہے۔شکریہ جیسنڈا آپا….شکریہ جیسنڈا باجی۔اور اب چلتے چلتے آخر پر کچھ اپنی دنیا کے بارے میں بھی۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد جاتے جاتے ایک جملے میں پورے عالم اسلام کو یہ کہتے ہوئے بہت سی فوڈ فار تھاٹ دے گئے کہ… ’’عالم اسلام سے کرپشن کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے‘‘۔ عالم اسلام اور کرپشن کو یوں بھی بریکٹ ہونا تھا؟ خدا کی پناہ’’بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی‘‘مسلمان اور کرپٹ؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ لوگ تو کبھی دیانت اور امانت کی علامت تھے اور یہی وہ زمانے تھے جب ان سے دنیا کی امامت کا کام لیا جا رہا تھا اور یہاں اس کے سوا اور کیا لکھوں کہ کرپشن صرف مالی کرپشن تک ہی محدود نہیں ہوتی۔ کوئی چاہے تو اخلاقی، جذباتی، عملی، روحانی، نفسیاتی، سیاسی اور حکومتی طور پر بھی کرپٹ ہو سکتا ہے یا ہر حوالہ سے بھی کرپٹ ہو سکتا ہے۔ جس کا جی چاہے، نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر اپنے گریبان میں جھانکنے کے لئے آزاد ہے۔PTIکے لئے پنجاب جیسا صوبہ پہلے ہی بزدار بھولا بھالا کی قیادت میں ’’اکیلیس ہیل‘‘ بنا ہوا ہے، اوپر سے ڈینگی کی آمد آمد ہے تو بہتر ہو گا بزدار صاحب کمر کس لیں۔ ڈینگی ٹھیک سے ہینڈل نہ ہوا تو سارے کس بل نکل جائیں گے۔ بزدار کے علاوہ اک مشورہ بلاول کے لئے بھی جو کہتا ہے ’’جیلیں بھر دیں گے‘‘بیلٹ بوکس تو بھرے نہیں جاتے، جیلیں کیسے بھرو گے؟ بلف کال کر لیا گیا تو رہا سہا بھرم بھی جاتا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.