33

اے پی ایس حملہ: چیف جسٹس کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

یہ احکامات چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور جسٹس سید منصور علی شاہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بدھ کو سپریم کورٹ پشاور کی رجسٹری میں اے پی ایس واقعے سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے جاری کیے۔

واضح رہے کہ اے پی ایس حملے میں ہلاک ہونے والے طلبا کے والدین کی تنظیم کی طرف سے درخواست دائر کی گئی تھی جس میں اے پی ایس واقعے کی جوڈیشل انکوائری کی استدعا کی گئی تھی۔ عدالت میں اے پی ایس واقعے میں مرنے والے طلبا کی مائیں بھی موجود تھیں۔

’وہ منظر لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا‘

ایسی بھی کیا جلدی؟

اے پی ایس والدین تنظیم کے ایک عہدیدار اور درخواست گزار عجون خان ایڈوکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہائی کورٹ کے ایک سینیئر جج کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا جائے گا جو دو ماہ کے اندر اندر اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے گا۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق اس موقع پر اے پی ایس حملے میں ہلاک ایک طالب علم کے والد فضل خان ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ انہیں پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پر یقین نہیں ہے کہ وہ انہیں انصاف دیں گے جس پر چیف جسٹس نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مزکورہ وکیل کو عدالت سے باہر نکل جانے کا حکم دیا۔

دریں اثنا چیف جسٹس نے ایک اور درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے پشاور شہر سے 48 گھنٹوں کے اندر تمام غیر ضروری سکیورٹی چیک پوسٹیں ختم کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔

اس موقع پر عدالت میں موجود چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا اعظم خان نے کہا کہ پشاور میں آج بھی ہائی الرٹ ہے اس وجہ سے چیک پوسٹیں قائم کی گئیں ہیں۔ تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ جو غیر ضروری ناکے اور چیک پوسٹیں ہیں انہیں فوری طور پر ختم کیا جائے۔

اس کیس میں درخواست گزار خورشید خان ایڈوکیٹ نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ گورنر ہاؤس جانے والے تمام راستوں کو پکی دیواریں لگا کر بند کیا گیا ہے جبکہ دیگر علاقوں میں بھی غیر ضروری چیک پوسٹیں قائم ہیں جس سے عوام کو آنے جانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ ممتاز قانون دان خورشید خان ایڈوکیٹ کی طرف سے کچھ عرصہ قبل پشاور شہر میں غیر ضروری چیک پوسٹوں کے خاتمے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس پر احکامات بھی جاری کیے گئے تھے تاہم بقول خورشید خان اس ضمن میں عمل درآمد نہیں کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار بدھ کی صبح ایک روزہ دورے پر پشاور پہنچے تھے۔ چیف جسٹس نے سنٹرل جیل پشاور اور مینٹل ہسپتال کا بھی دورہ کیا۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور دیگر اعلیٰ حکام ان کے ہمراہ تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.