99

این اے35ضمنی الیکشن کے ٹکٹ پرپاکستان تحریک انصاف بنوں میں اختلافات

پاکستان تحریک انصاف این اے35ضمنی الیکشن کے ٹکٹ پر تقسیم ہوگئی،ڈسٹرکٹ وتحصیل ممبران سمیت سینئر رہنماؤں ارو مشران نے پارٹی کو بچانے اور ضمنی الیکشن میں ذلت آمیز شکست سے بچنے کیلئے عمران خان ،پرویز خٹک اور شاہ محمود قریشی سمیت فواد چودھری سے پارٹی ٹکٹ پر نظر ثانی کرنے اور غیر پارٹی ورکرز سے این کا ٹکٹ واپس لیکر سابق ایم این اے ملک ناصر خان کو دینے کی اپیل کی ڈسٹرکٹ ممبران،تحصیل ممبران اور نظریاتی کارکنوں کا گرینڈ جرگہ بازید خیل سورانی میں منعقد ہوا.
جسمیں سابق ایم این اے ملک ناصر خان،سابق امیدواران صوبائی اسمبلی ملک عدنان خان،ڈاکٹر پیر صاحب زمان،پیر خوبان شاہ سمیت علاقہ کے مشران نے بھرپور شرکت کی این اے35کے امیدوار اور سابق ایم این اے ملک ناصر خان نے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 25دن قبل کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد میں عمرہ کیلئے جارہا تھا لیکن وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے مجھ کاہ کہ عمرہ جانے کا پروگرام مؤخر کردواور انتخابی مہم شروع کردوآپ کا ٹکٹ میں نے کنفرم کردیا ہے ارو اسکے بعد میں نے20روزہ مہم چلائی،پینا فیلکس تیار کئے لیکن ایم پی ایز پختون یار خان اور ملک شاہ محمد خان نے میرے خلاف سازش کی اور گذشتہ روز اچانک ٹکٹ مولانا نسیم علی شاہ کو دیا گیا جو کہ جے یو آئی کا کارکن ہے اور آج تک پی ٹی آئی میں شامل بھی نہیں ہوا ہے جو کہ پی ٹی آئی کے منشور کے خلاف ہے میں نے ہمیشہ اصولی سیاست کی ہے اور غیرت کی سیاست کی ہے مسلم لیگ ن کی حکومت تھی اس وقت مجھے گورنر بنانے کی پیشکش کی گئی لیکن اصولوں پر میں نے مسلم لیگ چھوڑ دی آج جے یو آئی والے بھی مجھے ٹکٹ دینے کی پیشکش کررہے ہیں لیکن میرا گلہ پرویز خٹک سے ہے کہ 20روزہ مہم چلانے کے بعد ٹکٹ واپس لیکر غیر پارٹی ورکر کو دیکر میری توہین کی اب میں پارٹی کے ڈسٹرکٹ وتحصیل ممبران اور نظریاتی کارکنوں کو اختیار دیتا ہوں کہ وہ کمیٹی بناکر آج ہی پارٹی قائدین سے ٹکٹ پر نظرثانی کا مطالبہ کریں ورنہ دو دن بعد میں ساتھیوں،قومی مشران اور بنوں کے رہنماؤں سے مشاورت کروں گا اگر انہوں نے مجھے آزاد حثیت سے الیکشن لڑنے،کسی اور پارٹی میں شامل ہونے یا پھر خاموش بیٹھنے کا مشورہ دیا تو میں اسی پر عمل کروں گا لیکن پارٹی منشور کے خلاف فیصلہ قبول نہیں کروں گاکیونکہ پارٹی میں کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ ملک ناصر خان ایم این اے بنے اور انکی اجارہ داری ختم ہوں،اور اگر ضمنی الیکشن میں جیتی ہوئی سیٹ پی ٹی آئی ہار جاتی ہے تو اسکے ذمہ داور وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے نسیم علی شاہ کیلئے ٹکٹ مانگا ہے اور جنہوں نے ٹکٹ دیا ہے جرگہ سے ڈسٹرکٹ وتحصیل ممبران ملک شکیل خان،ملک شیر بہادر خان،حلیم زادہ وزیر،ملک عصمت اللہ خان،جنید الرشید،ملک ظفر حیات خان(بذریعہ فون)عبدالرزاق خان،سہیل خان،سجاد خان،نعیم ہاتھی خیل،احسان اللہ شاہین،ملک شاہ عالم خان،شہانزیب خان،ملک عالمگیر خان ودیگر رہنماؤں نے کہا کہ ملک ناصر خان کے علاوہ کوئی اور اکرم خان درانی اور جے یو آئی کا بنوں میں مقابلہ نہیں کرسکتا ہے آج بنوں پی ٹی آئی کا گڑھ بن چکا ہے اور پی ٹی آئی سے شکست کے خوف سے مولانا فضل الرحمن نے بنوں سے الیکشن لڑنے کی جرائت نہیں کی لیکن پارٹی کے غلط فیصلے کی وجہ سے آج جے یو آئی والے ملک ناصر خان کو ٹکٹ نہ ملنے پر جشن منارہے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ صرف ملک ناصر خان ہی سیٹ جیت سکتا ہے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے سابقہ امیدوار صوبائی اسمبلی ڈاکٹر پیر صاحب زمان نے کہا کہ میریان قوم کے6یونین کونسلوں کے مشران اور عوم نے مشاورت جرگہ سے متعلق میں نے پرویز خٹک کو آگاہ کیا تھا کہ اگر ٹکٹ ملک ناصر خان کو ملتا ہے تو میراین قوم کے ہزاروں ووٹ ملک ناصر خان کو ملیں گے لیکن مولانا نسیم علی شاہ کو ٹکٹ دینے کی صورت میں قوم پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کی پابند نہیں ہوگی اور ملک ناصر خان جس پارٹی کے ٹکٹ پر بھی الیکشن لڑیں گے یا آزاد الیکشن لڑیں گے ہم اسکی حمایت کریں گے جرگہ سے سابق امیدوار صوبائی اسمبلی ملک عدنان خان نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ہمارے سامنے پرویز خٹک نے ایم پی اے پختون یار خان کو کہا تھا کہ مولوی نسیم علی شاہ کو مخصوص نشست بھی دے چکے ہیں اور ٹکٹ ملک ناصر خان کو دیا ہے لہذا نسیم علی شاہ سے کہدو کہ وہ کاغذات واپس لیں لیکن اسکے باوجود اسے ٹکٹ دینا سمجھ سے باہر ہے اور میں اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ بھی ملک ناصر خان کو دیتا ہوں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.