21

اگلے پانچ ارب سالوں میں سورج کی موت واقع ہوگی تو کیا ہوگا؟

ہماری دنیا سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ جب سورج نکلتا ہے تو دن ہوتا ہے، جب سورج ڈوبتا ہے تو شام اور پھر رات۔

لیکن اگر کسی دن سورج نہ نکلے تو کیا ہوگا؟ اگر سورج کی موت آ جائے تو کیا یہ دنیا بھی ختم ہوجائے گی؟

تاروں کے ٹوٹنے کے بارے میں آپ نے سنا ہوگا۔ لیکن کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ نظام شمشی کا سب سے بڑا تارا سورج ایک دن ختم ہو جائے گا۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اگلے پانچ ارب سالوں میں سورج کی موت واقع ہو جائے گی۔ لیکن اب تک انھیں بھی اس بات کا علم نہیں کہ اس کے بعد کیا ہوگا۔

سورج کا سائز
برطانیہ کی مانچسٹر یونیورسٹی میں ماہرین فلکیات کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی ہے۔

انھوں نے اس کے دوران ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں بعض پیش گوئیاں کی ہیں۔

ان ماہرین فلکیات کے مطابق جب سورج کی موت کا وقت قریب آئے گا تو وہ انٹرسٹیلر (تاروں کے درمیان) گیس اور غبار کے ایک روشن چھلے میں تبدیل ہو جائے گا۔

اس عمل کو ‘پلینیٹری نیبولا’ یا سیارے کے گرد گیس و غبار کے چھلے کہا جاتا ہے۔ اس کے سبب زندہ ستارے میں 90 فیصد تک تبدیلی آ جاتی ہے جس کے نتیجے میں سرخ رنگ کے اس عظیم الجثہ سورج کا سائز ایک سفید رنگ کے گولے کی طرح ہو جائے گا۔

‘نیچر ایسٹرونومی’ کے عنوان کے تحت کیے جانے والے مطالعے کے ایک مصنف البرٹ زجلسٹرا نے بتایا: ‘جب ایک تارا مرتا ہے تو اس سے بہت سی گیس اور غبار نکلتا ہے جسے انولپ (یعنی لفافہ) کہا جاتا ہے۔ یہ دھول اور گیس سورج کے کل حجم کا نصف رہ جاتا ہے اور اس کے اثرات اس کے مرکز پر بھی پڑتے ہیں اور وہ رفتہ رفتہ کمزور ہو جاتا ہے۔’

مرتے وقت سورج کیا کرے گا
سائنسدانوں کے مطابق، یہ اس وقت ہوتا ہے جب ستارے کے گرم اندرونی حصہ سے نکلنے والا غبار اور گیس دس ہزار سال تک چمکتا ہے جو کہ عالم فلکیات میں ایک مختصر مدت ہے۔

اس طرح پلینیٹری نیبولا نظر آتا ہے۔ کئی نیبولے تو اتنے چمکدار ہوتے ہیں کہ انھیں لاکھوں نوری سال کی دوری سے دیکھا جا سکتا ہے۔

البرٹ زجلسٹرا نے کہا: ‘ہم نہ صرف کروڑوں سال پرانے ستارے کی موجودگی کا پتہ لگا سکتے ہیں، بلکہ اب ہم نے یہ بھی تلاش کر لیا ہے کہ مرتے وقت سورج کا کیا رد عمل ہوگا۔’

مطالعہ کی تکمیل سے قبل سائنسدانوں کو بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ سورج کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔

سورج کے ساتھ کیا ہوگا؟ یہ جاننے کے لیے ماہرین فلکیات نے ایک نیا ڈیٹا ماڈل تیار کیا ہے۔

یہ ڈیٹا ماڈل مختلف عمر کے ستاروں سے نکلنے والی چمک کی بنیاد پر پیش گوئی کرتے ہیں۔

ناسا کا خلائی جہاز سورج کی فضا میں پرواز کرے گا۔
یہ نیا ماڈل جمع شدہ اعداد و شمار اور سائنسی قیاس کے ماڈل کے تضادات پر روشنی ڈالتا ہے۔

البرٹ نے کہا کہ ‘اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سورج جیسے کم وزنی ستارے سے بھی آپ کو روشن پلینیٹری نیبولا مل سکتا ہے۔’

اس سے قبل یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ کم از کم سورج کے دگنا وزن والے ستارے سے ہی روشن نیبولا نظر آ سکتا ہے۔

اب یہ پتہ چلا ہے کہ ستارے کی موت کے دوران جب وہاں سے گیس اور غبار نکلتے ہیں تو وہ پچھلے تخمینوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔

اور اسی لیے سورج جیسا کمزور اور کم وزنی ستارہ بھی نیبولا بن جاتا ہے۔

اخیر میں البرٹ کہتے ہیں: ‘اس تحقیق کے نتائج بہترین ہیں۔ اب نہ صرف ہم نظام شمسی یا پھر اس سے دور کی کہکشاؤں موجود لاکھوں سال پرانے تاروں کے بارے میں پتہ لگانے کی طریقے جانتے ہیں بلکہ اب تو ہم نے یہ بھی تلاش کر لیا ہے کہ جب سورج کی موت آئے گي تو اس میں کیا تغیرات رونما ہوں گے۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں