32

آ ئس نشے کے خلاف پولیس لائن سے نیشنل پریس کلب بنوں تک آگاہی واک کا اہتمام

ڈسٹرکٹ پولیس آ فیسر یاسر آفریدی کی قیادت میں آ ئس نشے کے خلاف پولیس لائن سے نیشنل پریس کلب تحصیل بنوں تک آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا جس میں تاجر برادری ، صحافیوں ، تحصیل ناظم بنوں ملک احسان،نیشنل پریس کلب کے صدر محمد وسیم و مختلف مکاتب فکر کے رہنماؤں نے شرکت کی واک کے شرکاء نے بینرز اُٹھائے تھے جس پر منشیات خصوصی طور پر آئس کے نشے کے خلاف نعرے درج تھے ڈی پی او یاسر آفریدی نے واک کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئس جان لیوہ نشہ ہے جو انسان سے عمر بھر کیلئے خوشیاں چھین لیتی ہیں اور خصوصی طور پر آئس کے نشے نے تعلیمی اداروں کے طلبہ کو اپنی گرفت میں لیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو شکست دینے کے بعد اب ہماری دشمن قوتیں ہماری نوجوان نسل کی تباہی پر عمل پیراں ہیں اور آئس کے نشے میں مصروف رکھنا چاہتے ہیں اگر فوری طور پر آئس نشے کی روک تھام کیلئے اقدامات نہیں اُٹھائے گئے تو ہماری نوجوان نسل اور معاشرہ بالکل تباہ و برباد ہو جائے گا آئس کے خلاف مہم کو کامیاب بنانے میں میڈیا کا کردار کلیدی ہے لہذا اس لعنت کے خلاف بھر پور جنگ کریں ۔
نوجوان نسل جس تیزی سے منشیات کا شکار ہورہی ہے وہ تویشناک ہی نہیں تکلیف دہ حقیقت بھی ہے۔ ایکسٹیسی پلز، آکسیجن شارٹ اور ” آئس“ سمیت کئی نشے اب پوش علاقوں کے نوجوانوں کی تفریح کا حصہ بن چکے ہیں۔ ”پارٹی ڈرگز“ کہلانے والی یہ منشیات پارٹیز سے نکل کر تعلیمی اداروں میں پہنچ چکی ہیں۔ حال ہی میں ان خبروں نے لوگوں کو چونکا کے رکھ دیا کہ ملک کے مختلف تعلیمی اداروں میں نوجوانوں ، خاص طور پر طلبہ میں ، منشیات کی ایک نئی قسم ” آئس یا کر سٹل میتھ“ (میتھ ایمفیٹامین) کے استعمال کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ” آئس“ جسے مختصر طور پر ” میتھ“ بھی کہاجارہا ہے نوجوان نسل ہیروئن کے بعد اس نشے کی عادی ہوتی جارہی ہے۔ مختلف کیمیکلز سے تیار ہونے والے نشے ” آئس“ کا نام پہلی بار تازہ تازہ سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل ہیرﺅن ، چرس اور دیگر نشے عام تھے۔ ” آئس“ ان ناموں میں نیا اضافہ ہے جو گزشتہ دو اڑھائی سال سے ہمارے معاشرے میں اپنے منحوس پنجے گاڑ رہا ہے۔ تعلیمی اداروں اوران کے ہاسٹلز میں مقیم نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد مسلسل اس لعنت کا شکار ہورہی ہے۔اس کے فروغ کی ایک بڑی وجہ اس کا بغیر بدبو کے ہونا ہے۔ اس کو سگریٹ کے ذریعے عوامی مقامات پر بھی بآسانی استعمال کیاجاسکتا ہے اور یہ دوسرے نشہ جات کی طرح بظاہر معیوب بھی محسوس نہیں ہوتا علاوہ ازیں اس نشے میں جگانے یعنی بیدار رکھنے کی خاصیت موجود ہونے کی وجہ سے طلبہ اس کی جانب راغب ہوتے ہیں تاکہ وہ امتحان کی ڈٹ کر تیاری کرسکیں مگر انہیں اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ اس طرح وہ ایک عذاب میں مبتلا ہونے جارہے ہیں۔ ” آئس“ میں پایاجانے والا میتھا ایمفیٹامین اپنے اندر وزن کم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے وزن گھٹانے کے لیے بھی بعض عاقبت نااندیش لوگ اسے استعمال کر بیٹھتے ہیں اور مستقل خطرات سے دو چار ہوجاتے ہیں۔ فی الحال ” آئس“ امیروں کا نشہ قرار دیاجاتا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق اصل اور خالص ” آئس“ نشے کی ایک پڑیا 5سے 10ہزار روپے میں فروخت ہوتی ہے۔ تاہم علاقائی سطح پر غیر قانونی لیبارٹریوں میں تیار ہونے والی ” آئس“ دوسرے درجے کی ہوتی ہے اور اس کی قیمت بھی ایک سے دو ہزار فی پڑیا ہوتی ہے۔ مگردو نمبر ” آئس“ مزید ہلاکت خیز اور تباہ کن اثرات مرتب کرتی ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق ” آئس“ نشے کی بڑی مقدار افغانستان سے پاکستان سمگل ہورہی ہے جبکہ اس کے علاوہ ایران اور چین سے بھی مختلف طریقوں سے پاکستان پہنچ رہی ہے۔ چین سے تحصیل علم کے بعد واپس آنے والے کئی طلبہ میں بھی ” آئس“ کی لت پائی گئی کیوں کہ وہاں یہ نشہ کافی عام ہورہا ہے۔” آئس پشاور اور قبائلی علاقوں میں آسانی سے مل جاتی ہے جہاں خاص مقامات پر اس کی فروخت ہورہی ہے۔ پشاور میں ملنے والی ” آئس“ عام طور پر ایران سے لائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان سے بھی یہ بھاری مقدار میں پاکستان پہنچ رہی ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں کام کرنے والی خفیہ لیبارٹریاں بھی ” آئس“ تیار کرکے فروخت کررہی ہیں۔ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں ” آئس“ کو ہیروئن کی جگہ استعمال کیاجارہا ہے۔ تحقیق سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ ” آئس“ پینے والے بیشتر افراد پہلے ہیروئن کے عادی رہ چکے ہیں۔ ” آئس“ کیا ہے؟ بھاڑی نما مخصوص پودوں اور درختوں سے ایک حناص کیمیکل حاصل کیاجاتاہے۔ یہ کیمیکل ”میتھ ایمفیٹامین“ کہلاتا ہے۔” آئس“ یاکرسٹل میتھ کہلانے والا یہ مادہ مقامی سطح پر ایک کیمیائی عمل کے ذریعے ایفیڈزین سے بنایا جاتاہے ۔ چینی یا نمک کے کرسٹل نما سفید ٹکڑے بنائے جاتے ہیں۔ اسی لئے اسے ” آئس“ کہاجاتا ہے کیونکہ یہ برف کی ٹکڑیوں جیسا دکھائی دیتا ہے۔ نشہ بازان ٹکڑیوں کو باریک شیشے سے گزار کر حرارت دیتے ہیں عام طور پر اس کا م کے لیے کوئی سائنس لیب ٹیوب یا بلب کے باریک شیشے کو استعمال کیاجاتاہے۔ کچھ نشہ باز اس زہر کو انجکشن کے ذریعے بھی جسم میں اتارتے ہیں۔ سگریٹ میں استعمال کے لیے آدھی سگریٹ تمباکو سے خالی کرنے کے بعد درمیان میں آئس پاﺅڈر ڈال دیاجاتا ہے۔ اسے پگھلا کر بوتل میں ڈالتے ہیں جس کے نیچے آگ جلائی جاتی ہے اور پھر اس میںاسٹرالگا کر اس میں سے نکلنے والا دھواں کھینچا جاتا ہے۔ پانی اور الکحل میں فوری حل ہونے والی ” میتھ ایمفیٹامین“ کی ایجاد 1993ءمیں مختلف بیماریوں کے علاج کی دوا کے طور پر ہوا تھا ۔1920ءمیں اس دوا کے ذریعے جرمنی میں مختلف بیماریوں کا علاج کیا گیا۔ 1930ءمیں یہ دمہ، بخار اورسردی کے بچاﺅ کی دوا کے طور پر جانی جاتی تھی۔ 1950ءکے عشرے میں امریکانے اس کی گولیوں کو طلبہ، ٹرک ڈرائیوروں ،نائٹ ڈیوٹی کرنے والوںاور کھلاڑیوں کے لیے بیدار رکھنے والی دوا کے طور پر استعمال میں لانے کا عمل شروع کیا۔ 1970ءتک مارکیٹ میں اس کے انجکشن بھی آگئے اور یہ نشہ بازوں کے ہاتھ لگ کر نشے کی چیز بن گئی۔ افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج نے جنگی حکمت عملی کے تحت ” آئس“ کا استعمال شروع کرایا۔” آئس“ کے استعمال سے ان فورسز کی جنگی صلاحیتوں میںغیر معمولی اضافہ ہوا۔ وہ تین دن تک بغیر کھائے پینے اور سوئے لڑتے رہے۔ ماہرین کاکہناہے کہ ” آئس“ کے استعمال سے انسان اپنے اندر دوگنی توانائی محسوس کرتاہے۔ اس نشے کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے استعمال سے نشہ باز ایک عام شخص 24سے لے کر 48گھنٹوں تک زیادہ جاگ سکتا ہے۔ وہ اس قدر چوک ہوجاتاہے کہ اسے طویل اوقات نیند نہیں آتی، تاہم جب نشہ اترتا ہے تو انسان انتہائی تھکاوٹ اور سستی محسوس کرتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ” آئس“ استعمال کرنے والوں کا حافظہ بھی وقتی طور پر بہت تیز ہوجاتا ہے۔ یہ الگ بات کہ اس کا دماغ رفتہ رفتہ کمزوری کی طرف مائل ہونے لگ جاتا ہے۔بدقسمتی سے یہ نشہ ملک کے تعلیمی اداروں میں فروغ پارہا ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ” آئس“ استعمال کرنے والوں میں طالبات کی ایک قابل ذکر تعداد بھی شامل ہے۔ بدکار عورتیں بھی ” آئس کا استعمال زیادہ کررہی ہیں۔ علاوہ ازیں طلبہ ، تجارت پیشہ افراد ، سیاستدانوں، سرکاری افسران اور خواتین بھی اس نشے کی شکار ہورہی ہیں۔ پشاور میں نفسیاتی امراض کے ماہر ڈاکٹر میاں افتخار حسین نے ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں بتایا کہ گزشتہ دوسال کے دوران ان کی علاج گاہ میں تقریباً سو سے زیادہ افراد لائے گئے جو ” آئس“ کا نشہ کرتے تھے۔ ان میں چھ خواتین بھی شامل تھیں۔ پشاور یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے اپنا نام مخفی رکھتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ برس ہاسٹل میں اس نے دوستوں کے ساتھ مل کر حشیش (چرس) کا استعمال شروع کیا۔ ” یہ ایک بہت ہی غلط فعل تھا، شروع میں ہم پڑھائی کے بوجھ کی وجہ سے نشہ کرتے تھے، لیکن بعد میں ہم اس کے عادی بن گئے۔“ و ہ کہتے ہیں کہ بہت سے طالب علم اور نوجوان بے روزگاری اور معاشی دباﺅ کی وجہ سے مختلف منشیات کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔ ان کے بقول انہوں نے خود کبھی آئس کا استعمال نہیںکیا، لیکن اپنے دوستوں کو اس کا استعمال کرتے دیکھا ہے۔ ” میرے دوست بتاتے ہیں کہ اس سے انسان تروتازہ ہوجاتا ہے ، وہ آئس مشروبات یا پھر سگریٹ کے ساتھ پیتے ہیں۔ یہ بالکل کوکین کی طرح کام کرتی ہے۔“پاکستان کے بڑے شہروں لاہور، پشاور اور کراچی میں ” آئس“ کا پھیلاﺅ خطرناک حد تک جاری ہے۔ یہاں مقامی سطح پر خفیہ لیبارٹریز قائم ہیں جو آئس نشہ تیار کرکے فروخت کرتی ہیں۔ کراچی میں تو ” آئس“ کانشہ کرنے والوں کی کافی تعداد کا پتہ چلا ہے جو یہ کام کئی برسوں سے کررہی ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق این ای ڈی یونیورسٹی میں ” آئس“ کا نشہ فروخت کرنے والوں میں مبینہ طور پر بعض ملازمین بھی شامل ہیں۔کراچی جوہر آباد تھانے نے ایک کارروائی میں ” آئس“ فروخت کرنے والے چند افراد گرفتار کیے تھے۔ پولیس کے مطابق گرفتار شدگان میں ایک نشہ فروش جامعہ کراچی کا ملازم تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ” آئس“ فروشی کا سلسلہ کراچی میں برسوں سے جاری ہے۔ یہ گروپ کراچی کے مختلف مقامات پر مخصوص اوقات میں نشہ فروخت کرنے اور نشئی لڑکیوں کے ساتھ بدسلوکی کا بھی ارتکاب کرتا رہا ہے۔ کراچی پولیس کاکہنا ہے کہ سہراب گوٹھ، لیاری، نیوکراچی و دیگر گنجان آباد علاقوں میں ” آئس“ تیار کرنے کی کئی غیرقانونی لیبارٹریاں قائم ہیں۔ 2012ء میں کراچی ڈی ایچ اے میں بھی ایسی ہی ایک لیبارٹری پکڑی گئی تھی جہاں ” آئس “ نشہ تیار کیا جاتا تھا۔ اس لیبارٹری کا پتہ بھی اس وقت چلا تھا جب یہاں کسی وجہ سے دھماکا ہوگیا تھا۔علاوہ ازیں ماہرین عمرانیات کا کہناہے کہ بچوں کو نشے سے دور رکھنے کےلئے ضروری ہے کہ بچوں کو بے وجہ ڈھیل نہ دیں۔ پرائیویسی کے نام پر بچوں کو ان کے کمروں میں بند کردینے کے خوفناک نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.