37

اُلوؤں کی چوری کیوں بڑھتی جا رہی ہے؟

سکاٹ لینڈ کے لوئس جزیرے پر وہ ایک عام طوفان رات تھی۔ صبح ہوئی تو تیز ہواؤں میں ہی وہاں کے رہائشی ڈونلڈ میکلیوڈ اپنے پالتو جانوروں کا احوال جاننے کے لیے باہر نکلے۔ یہ ڈونلڈ کا معمول تھا۔ لیکن جب وہ اپنے پرندوں کے کابک کے پاس پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ اس کی چھت غائب ہے۔

ڈونلڈ نے دیکھا کہ کابک کی چھت کو کسی نے اوپر سے کاٹ دیا تھا اور ان کا پالتو الّو سکریمپ بھی غائب تھا۔ کسی نے یا تو اسے چرا لیا یا پھر وہ چھت کے کٹتے ہی خود فرار ہو گیا۔

ڈونلڈ نے باز اور دوسرے پرندوں کو پالنے کی تربیت حاصل کر رکھی ہے۔ وہ اپنے پانچ سالہ پالتو الّو سکریمپ کی مدد سے ان بچوں کا دل بہلاتے تھے جو ان کے یہاں آتے تھے۔ ڈونلڈ آئل آف لوئس میں ایک ‘بیڈ اور بریکفاسٹ’ نامی ریستوراں چلاتے ہیں جہاں لوگ ناشتے اور کھانے کے لیے آتے ہیں اور تھوڑی دیر کے لیے وہ اپنے بچوں کو وہاں چھوڑ بھی سکتے ہیں۔

ڈونلڈ اپنے پالتو الّو سکریمپ کی چوری سے بہت رنجیدہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سکریمپ ان کے خاندان کا رکن تھا۔ اس کی غیبت سے انھیں بہت صدمہ پہنچا ہے۔

ڈونلڈ کے چڑیا خانے میں چوری عام واقعہ نہیں ہے۔ لوئس جزیرے کے کنارے ڈونلڈ کا ریستوراں رہائشی علاقے سے دور ہے۔ یہاں جرائم بہت کم ہیں۔ عام چوری تو رہنے دیں پرندوں کی چوری غیر معمولی بات ہے۔

لیکن اب اس قسم کا جرم بار بار ہو رہا ہے۔ پرندوں کو پالنے والوں کے لیے اب یہ معمول کی بات ہے۔ یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مجرم پیشہ افراد ان پرندوں کو نقد رقم کے لیے چوری کر رہے ہیں۔

آج دنیا کے تقریبا تمام ممالک میں کیش لیس لین دین کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اور اس دہائی کے اختتام تک کیش لیس یا غیر نقدی لین دین 726 ارب تک پہنچ جائے گا۔ اس میں سنہ 2015 سے ہر سال 10.9 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔

انڈیا میں بھی کیش لیس لین دین پر ہی زور ہے۔ برطانیہ میں بھی نقد لین دین میں کمی واقع ہوئی ہے اور سنہ 2016 کے مقابلے میں وہاں نقد ٹرانزیکشن 15 فیصد کم ہو کر 13.1 ارب رہ گیا ہے جبکہ کارڈ سے ادائیگی میں اضافہ ہوا ہے۔

جاپان میں نقد لین دین میں سنہ2017 میں 8.5 فیصد کمی آئی ہے جبکہ چین میں سنہ 2016 کی ایک سہ ماہی میں موبائل ادائیگیوں میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

لیکن جوں جوں کارڈ، موبائل اور آن لائن ادائیگی میں اضافہ ہو رہا ہے دکانوں اور دیگر کاروباری افراد کے یہاں نقد رکھنے کے رجحان کو کم ہو رہا ہے۔

مجرموں کے لیے نقد کی یہ کمی بڑے بحران کی صورت ابھرا ہے۔ کسی بھی چور کے لیے نقد رقم سب سے اچھی چیز ہوتی ہے۔ اسے بہ آسانی لے جایا جا سکتا ہے اور خرچ کرنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔

لیکن جب دنیا کے بیشتر ممالک کیش لیس کی جانب جا رہے ہیں ایسے میں مجرم اپنے فوری غیر قانونی آمدنی کے نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔

سویڈن میں گذشتہ سال نقد میں کل لین دین صرف دو فیصد ہی تھا۔ سویڈن کی 20 فیصد آبادی نے تو ایک بار بھی نقدی نہیں نکالی۔ ایسے میں وہاں کے مجرموں کے مسائل میں یقینا اضافہ ہوا۔

سنہ 1990 کی دہائیوں میں سویڈن میں جہاں اوسطاً 100 بینک ڈکیتیاں ہوتی تھیں وہ گذشتہ چار سالوں میں 30 تک آ گئیں اور سنہ 2017 میں تو صرف 11 بینک لوٹے گئے۔ اسی طرح گاڑیوں سے بھی لوٹ کے واقعات میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔

لیکن سویڈن میں جانوروں محفوظ نسلوں سے متعلق جرائم بڑھ رہے ہیں۔ سنہ 2016 میں اس طرح کے 156 واقعات درج کیے گئے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام کا کہنا ہے کہ نایاب نسل کے الوؤں کے انڈے اور اورکڈ یعنی ثعلب مصری (ایک قسم کے پھول) کی چوری میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

انھیں کالے بازار میں فروخت کیا جاتا ہے۔ پھر وہاں سے انھیں سمگل کر کے دنیا کے دیگر ممالک، جیسے سعودی عرب، قطر یا متحدہ عرب امارات، بھیجا جاتا ہے۔ ان ممالک میں معدوم نسل کے پرندے پالنا دولت مندی کی نشانی ہے۔ سویڈن کے پولیس افسر فلپپو بیسینی کا کہنا ہے کہ کالے بازار میں ایک بھورے الو کی قیمت 11 لاکھ ڈالر تک مل جاتی ہے۔

یہ معاملہ صرف سویڈن تک ہی محدود نہیں۔ بہت سے دوسرے ممالک میں ناپید ہونے والے جاندار کی چوری اور سمگلنگ میں اضافہ ہوا ہے۔

آج برطانیہ میں صرف 40 فیصد لین دین ہی نقد میں ہوتا ہے۔ یہاں بھی معدوم نسلوں سے متعلق جرائم بڑھ رہے ہیں۔

سکریمپ جیسے الو کے لیے تو صرف 100 پاؤنڈ ہی ملیں گے لیکن خانہ بدوش مادہ باز کے چار ہزار پاؤنڈ تک مل سکتے ہیں۔ سائبریا کے سیاہ باز کی قیمت 75 ہزار ڈالر تک ہے۔

عرب ممالک میں ان پرندوں کی بہت مانگ ہے۔ اسی وجہ سے ان کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور ان سے منسلک جرائم بھی۔

ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار بامی ماہی کی شیشے والی نسل کی بھی بہت مانگ ہے۔ ایک ٹن وزنی بامی کے لیے آپ کو 80 لاکھ پاؤنڈ یا ایک کروڑ یورو مل سکتے ہیں۔ چین میں ملایم بامی کو گرل کرکے کھانے کا چلن ہے۔

رواں سال تقریبا 100 ٹن بامی کو یورپی ممالک سے سمگل کر کے چین لایا گیا ہے۔ آج اس کا غیر قانونی کاروبار کوکین جیسا منافع بخش سودا ہے۔ حال ہی میں برطانوی پولیس نے ماہی کی سمگلنگ کرنے والے صرف ایک گروہ کی تحقیقات کی ہے تو پتہ چلا کہ پانچ سالوں میں اس نے ڈھائی کروڑ پاؤنڈ کی سمگلنگ کی۔

برطانیہ کے نیشنل وائلڈ لائف کرائم یونٹ کے افسر ایلن رابرٹس کہتے ہیں کہ جنگلی جانوروں سے جرم کی دنیا کا چہرہ مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ آج منظم جرائم سے منسلک زیادہ منافع بخش نسلوں کی سمگلنگ کر رہے ہیں۔

البتہ اس طرح کے تمام جرائم کو نقدی کی کمی سے جوڑنا درست نہیں۔ سویڈن کے سابق پولیس افسر بیورن ایرکسن نے نقدی کو چلن میں واپس لانے کی مہم چھیڑ رکھی ہے۔ وہ انٹرپول سے بھی منسلک رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنگلی جانوروں کی سمگلنگ میں اضافے کا تعلق براہ راست نقدی سے ہے۔

وہ کہتے ہیں: ‘اگر نقد رقم نہیں ہو گی تو مجرمان کچھ اور چوری کریں گے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ نقد کی کمی سے ڈکیتیاں رکیں گی۔ شاید بینک چوری نہ ہو لیکن مجرم کسی اور جرم کا رخ کر رہے ہیں۔ نقدی کے متبادل کے طور پر دوسرے جرائم کی تلاش جاری ہے۔’

پرندوں اور مچھلیوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا مشکل ہے۔ لہٰذا اب بڑے سٹورز میں چوری کے دوران چور قیمتی سامان پر زیادہ ہاتھ صاف کرتے ہیں۔

مثلا مہنگی جینز، ڈیزائنر ہینڈ بیگ، مہنگے ریزر اور بلیڈ، بےبی فارمولا دودھ، دانتوں کو سفید کرنے والے اور ڈٹرجنٹ پاؤڈر لوٹے جا رہے ہیں۔

اب سٹوروں میں نقد رقم کا لین دین بہت کم ہوتا ہے۔ لہٰذا مجرم قیمتی سامان کے ذریعے نقدی کی کمی پوری کرتے ہیں۔پھر انھیں بلیک مارکٹ میں فروخت کرکے رقم حاصل کی جاتی ہے۔

ایسے میں مجرموں کے لیے آئی فونز بھی اچھے اہداف ہیں۔ وہ انھیں دوسرے ممالک لے جا کر فروخت کرتے ہیں۔ سامان لوٹنا بھی آسان ہے۔ دوا کی دکان سے دواؤں کی چوری بھی آسان ہے۔ ہینڈبیگ چھیننا بھی بہت آسان کام ہے۔

بعض اوقات مجرمان قیمتی سامنا سٹور میں یہ کہہ کر واپس کرتے ہیں کہ ان کی پرچی کھو گئی ہے اور اب وہ اس کے بدلے میں نقد رقم چاہتے ہیں۔ کئی بار وہ گفٹ واؤچر کا حوالہ دے کر بھی پیسے لے جاتے ہیں۔

اب چور خواہ الو کی چوری کریں یا پھر مچھلی چرائيں یا ریزر بلیڈ، ان کا شکار ہونے والوں کو تو ایک جیسا ہی صدمہ پہنچتا ہے۔

جیسے ڈونلڈ میک لیوڈ کے سکریمپ کا جانا۔ وہ کہتے ہیں، ‘سکریمپ ہمارے لیے انمول تھا۔’

پولیس اب بھی اس گمشدہ الو کی تلاش میں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.