23

انڈین لڑکی نے مذہب تبدیل کر کے پاکستانی لڑکے سے شادی کر لی

اپنا مذہب تبدیل کر کے ایک پاکستانی شہری سے شادی کرنے والی انڈین خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اعظم کے ساتھ گذشتہ ڈیڑھ سال سے رابطے میں تھیں اور پاکستان آکر ان سے شادی کرنا چاہتی تھیں۔

کرن بالا انڈین پنجاب کی رہائشی ہیں اور لاہور میں انھوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام آمنہ بی بی رکھ لیا ہے اور پاکستانی شہری اعظم کے ساتھ شادی کر لی ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار شمائلہ جعفری سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ماضی میں پاکستان آنے کی کوششیں کر چکی تھیں تاہم انھیں ویزہ نہیں ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں ایک اخبار کے ذریعے علم ہوا کہ سکھ یاتریوں کا ایک گروہ بیساکھی کی تقریبات میں شرکت کے لیے پاکستان جا رہا ہے، انھوں نے منصوبہ بنایا اور بطور یاتری ویزہ حاصل کیا۔

کرن بالا کا کہنا تھا کہ وہ یاتریوں کے ہمراہ پہلے حسن ابدال میں واقع پنجہ صاحب گردوارہ اور پھر ننکانہ صاحب گئیں۔ اس کے بعد لاہور آئیں اور اعظم کے ساتھ ان کی ملاقات دریائے راوی کے پل پر ہوئی۔

بعدازاں لاہور میں واقع جامعہ نعیمیہ میں انھوں نے اسلام قبول کیا اور لاہور کے علاقے ہنجروال کے رہائشی اعظم کے ساتھ نکاح کر لیا۔

کرن بالا نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ انڈیا واپس نہیں جانا چاہتیں اور یہاں اپنے شوہر کے ہمراہ رہنا چاہتی ہیں۔

ان کے مطابق انھوں نے اپنے والد اور چچا کو اس فیصلے کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان کے اس فیصلے پر ناراض ہیں لیکن وہ اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کریں گی۔

کرن بالا کا کہنا تھا کہ ان کی پہلے شادی ہوچکی ہے اور ان کے شوہر کا چند سال قبل انتقال ہو گیا تھا۔ انھوں نے بچوں کے حوالے سے انڈین ذرائع ابلاغ کی ان خبروں کی بھی تردید کی۔

انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کا پاکستان میں انڈین ہائی کمیشن، گردوارہ پربھندک کمیٹی یا انڈیا اور پاکستانی حکام کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے۔

کرن بالا کا ویزہ 21 اپریل کو ختم ہو رہا ہے اور انھوں نے اپنے وکیل کے ذریعے ویزہ میں توسیع کی درخواست دائر کی ہے۔

دوسری جانب پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ‘ویزے میں توسیع کا اختیار وزارت داخلہ کے پاس ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ ایک انسانی مسئلہ ہے اور اسے انسانی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ اگر کوئی فرد مذہب تبدیل کرنا اور یہاں رہنا چاہتا ہے تو یہ اس کا ذاتی مسئلہ ہے۔ اس کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔’

ادھر لاہور ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ سے اس معاملے کو دیکھنے اور جلد فیصلہ کرنے کا کہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں