22

انڈیا کسانوں کی تین لاکھ خودکشیاں

انڈیا کی مختلف ریاستوں کے ہزاروں کسانوں نے ملک کے ارکان پارلیمان سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں بدحالی سے نکالنے کے لیے ان کے تمام قرضے معاف کرنے اور ان کی پیداوار کی منافع بخش قیمت کی ضمانت دینے کے قوانین کو وہ پارلیمنٹ میں منظوری دیں۔ ہزاروں کسانوں نے جمعے کو دارالحکومت دلی میں پارلیمنٹ تک مارچ کیا۔

الگ الگ رنگ کے پرچم لیے ہوئے، اپنی اپنی زبانوں میں نعرے لگاتے ہوئے ان کسانوں نے رام لیلا میدان سے پارلیمنٹ تک مارچ کیا۔ ان سبھی کے مسائل مشترک تھے۔ یہ سبھی بدحالی سے گزر رہے ہیں۔

اترا کھنڈ سے آنے والے ایک کاشت کار بلجیت سنگھ نے کہا ‘مودی جی جب اقتدار میں آئے تو انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ سبھی کے قرضے معاف کریں گے۔ کسی کے پندرہ روپے معاف کیے گئے کسی کے بیس روپے معاف کیے تو کسی کا وہ بھی نہیں کیا۔ جب تک ہمیں ہماری پیداوار کی منافع بخش قیمت کی ضمانت نہیں دی جاتی تب تک ہم اسی طرح قرض میں ڈوبے رہیں گے۔’

کسانوں کے مارچ کا اہتمام آل انڈیا کسان سنگھرش کمیٹی نے کیا تھا۔ اس میں دو سو سے زیادہ کسانوں کی تنظیمیں شامل ہیں۔ یوگیندر یادو کسانوں کی تحریک سے ایک طویل عرصے سے وابستہ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کسانوں کے دو اہم مطالبات ہیں۔ پورے ملک میں کسانوں کے سبھی قرضے معاف کرنے اور دوسرے زرعی پیداوار کی منافع بخش قیمت کی ضمانت دینے کے دو بل پارلیمنٹ میں زیر غور ہیں انہیں منظور کیا جائے۔

یوگیندر کا کہنا ہے کہ کاشتکار گذشتہ حکومتوں میں بھی بدحال تھے لیکن اس حکومت میں وہ بدترین حالت میں پہنچ گئے ہیں۔ ‘بیس برس میں تین لاکھ سے زیادہ کسانوں نے خود کشی کی ہے کوئی اور جگہ ہوتی تو ملک ہل گیا ہوتا لیکن یہ انڈیا ہے یہاں حکومتوں پر کوئی اثر نہیں ہوا۔’

حکومت نے کسانوں کی آمدنی تین برس میں دوگنی کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ وہیں کی وہیں ہے جبکہ پیداوار کی لاگت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ سوکھے کی مار، ڈیزل، بیج، کھاد اور ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے کاشت کاری ایک نقصان کا سودا بن گئی ہے۔

یوگیندر کہتے ہیں کہ ‘کھیتی واحد ایسا کاروبار ہے جو گھاٹے کا بزنس ہے۔ میں پورے ملک میں کاشتکاروں سے ملا ہوں مجھے ایک بھی کاشتکار نہیں ملا جو اپنے بیٹے کو کاشتکاری کے پیشے میں ڈالنا چاہتا ہو۔ زرعی شعبہ ایک بحران سے گزر رہا ہے۔‘

زیر زمین پانی کی سطح کافی نیچے جا چکی ہے ۔ مٹی کی زرخیزی میں بھی کافی کمی آئی ہے۔ موسمی تبدیلیوں کا براہ راست اثر کسانوں پر پڑ رہا ہے۔ اگر فصل اچھی ہوتی ہے تو قیمتیں گر جاتی ہیں۔ کسان ایک دائمی بدحالی کی گرفت میں ہیں۔ ہریانہ کے کسان رہنما ماسٹر شیر سنگھ کہتے ہیں کہ ’جب الیکشن آتا ہے تو جماعتیں کسانوں کے پاس آتی ہیں اور جب اقتدار میں آجاتی ہیں تو وہ کارپوریٹ کی سنتی ہیں۔’

وہ کہتے ہیں کہ جب تک کسانوں کی پیداوارکی منافع بخش قیمت کی ضمانت نہیں دی جاتی اور اس کے لیے قانون نہیں بنایا جاتا تب تک کسانوں کی بدحالی دور نہیں ہو سکتی۔

حالیہ برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب ملک کے کسانوں کی دو سو سے زیادہ تنظیمیں ایک ساتھ آئیں اور کسانوں کی آواز موثر طریقے سے پارلیمنٹ تک پہنچائی گئی۔

کسانوں کی بہتری کے لیے حکومتیں وقتاً فوقتاً کچھ اقدامات کرتی رہی ہیں لیکن اس سے ان کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آسکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسانوں کی بدحالی دور کرنے کے لیے وقتی نہیں ایک مستقل حل کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.