26

انڈیا میں طالبہ کے پستانوں کا تربوز سے موازنہ کرنے پر احتجاج

انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ میں ایک کالج کے طالب علم احتجاج کر رہے ہیں کیونکہ ایک پروفیسر نے ایک طالبہ کے پستانوں کا موازنہ تربوز سے کیا تھا۔

ایک واقعے کی ایک ویڈیو انٹرنیٹ ہفتہ وار چھٹیوں کے دنوں میں منظرعام پر آئی جس کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا۔

مظاہرین نے اس تبصرے کے خلاف تربوز کے ٹکڑوں کے ساتھ سڑکوں پر احتجاج کیا۔

کچھ افراد نے تربوز کے ساتھ اپنی تصویر آن لائن بھی پوسٹ کیں تاکہ وہ اس رویے کے خلاف احتجاج کر سکیں کہ خواتین کو کیا پہننا چاہیے۔

ڈول نیوز ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک ویڈیو میں کیرالہ کے کوجھکوڈ شہر میں فاروق ٹرننگ کالج کے پروفیسر جوہر منور ٹی کی ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ شیئر کی گئی ہے۔

اس ریکارڈنگ میں پروفیسر منور ٹی خاتون طالب علموں کا تبقید کا نشانہ بناتے ہیں جو اپنے ’سر کے گرد سکارف لپیٹتی ہیں اور سینے کا حصہ کھلا چھوڑ دیتی ہیں، جسم کا وہ حصہ کو مردوں کی توجہ حاصل کرتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ تربوز کے ٹکڑے جیسا ہے، ایسے کٹا ہوا جیسا ایک پکا ہوا پھل دکھائی دیتا ہو۔‘

اس ریکارڈنگ کو ہزاروں لوگوں نے شیئر کیا ہے اور کوجھکوڈ کی سڑکوں پر تربوز کے ٹکڑوں کے ساتھ مارچ کیا اور انھوں نے پروفیسر کے بیان کے خلاف مذمتی بینرز بھی اٹھا رکھے تھے۔

ان مظاہروں میں تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی طلبہ تنظیموں نے حصہ کیا۔

ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا کے جوائنٹ سیکریٹری نکھل پی نے بی بی سی ہندی کو بتایا: ’یہ تمام خواتین کے خلاف ہے۔ کیرالہ جیسی ریاست میں اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘

بہت سارے افراد نے سوشل میڈیا پر پروفیسر کے بیان کے خلاف غصے کا اظہار کیا۔

دو خواتین نے پروفیسر کے بیان کے خلاف احتجاجاً ایسی تصاویر فیس بک پر شیئر کیں جن میں وہ نیم برہنہ حالت میں تربوز اٹھائے ہوئے تھیں۔

ان میں سے ایک خاتون آرتھی ایس اے نے بی بی سی کو بتایا: ’میں نے اپنی نیم برپنہ تصویر اس لئی لگائی کیونکہ انسانی جسم میں حد سے زیادہ جنسی سمجھا جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ ساڑھی پہینیں تو آپ ہر وقت پریشان رہتی ہپیں کیونکہ جسم کا کوئی حصہ ظاہر نہیں ہونا چاہیے۔ لوگ ہماری بے عزتی کرتے ہیں اگر ہم جسم کا کوئی حصہ دکھائیں۔‘

آرتھی کہتی ہیں کہ تصویر شیئر کرنے کے بعد انھیں ’فاحشہ‘ کہا گیا جبکہ کچھ لوگوں نے اسے ’بہت اچھا خیال‘ بھی کہا۔

تربوز کے ساتھ اپنی نیم برہنہ تصویر پوسٹ کرنے والی دوسری خاتون ریحانہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ ’یہ میرا جسم ہے، میرا حق ہے۔ پروفیسر خواتین کو چیزوں کی طرح سمجھ رہے ہیں۔‘

اگرچہ بیشتر آن لائن صارفین نے پروفیسر کے اس بیان پر تنقید کا نشانہ بنایا تاہم انڈین یونین مسلم لیگ سے منسلک ایک صارف کا کہنا تھا کہ پروفیسر کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر دیکھا جا رہا ہ۔

احتجاج کے ایک اور ناقد کا کہنا تھا کہ کیا طالب علم تنظیموں کے پاس توجہ دینے کے لیے ’مسائل کی کمی ہے۔‘

بی بی سی نے ردعمل جاننے کے لیے فاروق ٹریننگ کالج سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں