46

انصاف تول کر کرنا چاہیئے اور تول کر ہی دیا جائے گا، چیف جسٹس

پشاور:چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ انصاف تول کر کرنا چاہیئے اور تول کر ہی دیا جائے گا،انصاف کی فراہمی ججز کی ذمہ داری ہے،کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔

جمعرات کو پشاور میں ضلعی بار کے صدور سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ لوگ تنقید کرتے ہیں ہم فیصلہ جلد اور قانون کے مطابق نہیں کررہے، میں قانون بنانے والا نہیں اسے نافذ کرنے والا ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ریاست کی سب سے کم ترجیح عدلیہ ہے تو ذمے دار میں نہیں، بہت مرتبہ ذکر کرچکا ہوں کہ نظام میں بہت سی مشکلات ہیں۔

اگر 1872 کا قانون تبدیل نہیں کیا گیا،عدالتیں نہیں بنائی گئیں اور ججز نہیں دیئے گئے تو اس کی ذمہ دار سپریم کورٹ نہیں ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا ہے لیکن میں تنہا اس نظام کو درست نہیں کر سکتا، انصاف تول کر دیا جانا چاہیے، کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کا مزید کہنا تھا کہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، ہم نے مداخلت شروع کر دی ہے، اب ہم بھی ریاست میں آتے ہیں، ججز کی ذمہ داری انصاف کی فراہمی ہے، سچ جھوٹ کا فیصلہ کرنا ججز کا کام نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں اپنا ہاؤس ان آرڈر کرنا ہے، اکیلے اس نظام کو ٹھیک کرنے کی استطاعت نہیں، مسائل حل کرنا تمام ججز کی ذمہ داری ہے اور جیسے بھی مصائب ہوں گے اس میں رہتے ہوئے کام کرنا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ دفتر نے کئی کیسز پر اعتراضات لگا کران کو اپنے پاس رکھا ہوا تھا، ان کیسز کو سننے یا نہ سننے سے متعلق فیصلہ ججز کو کرنا تھا دفتر کو نہیں، اس طرح کی 225 پٹیشن میرے پاس آئیں جو روزانہ 10،10 کر کے نمٹائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.