41

امریکہ سے سفارتکاری ناکام ہوئی تو’جوہری قوت کا برملا مظاہرہ‘ ہو گا: شمالی کوریا

شمالی کوریا کی ایک اعلیٰ اہلکار نے امریکی نائب صدر مائیک پینس کے بیان کو ’بیوقوفانہ‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر سفارتکاری ناکام ہوتی ہے تو پھر ممکنہ ’جوہری قوت کا برملا مظاہرہ‘ ہوگا۔

چھوئے سن ہی نے کہا ہے کہ پیانگ یانگ امریکہ سے مذاکرات کی بھیک نہیں مانگیں گا اور نہ ہی اسے مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے قائل کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر آجائیں اور یا پھر ’جوہری قوت کا برملا مظاہرہ‘ ہو گا۔

خیال رہے کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات 12 جون کو سنگاپور میں کی جانی ہے لیکن شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے اس کے یک طرفہ طور پر جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونے پر اصرار کیا تو وہ یہ ملاقات منسوخ کر دے گا۔

جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس چیز کے قوی امکانات موجود ہیں کہ آئندہ ماہ ان کی شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ ملاقات نہ ہو پائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ملاقات سے قبل شمالی کوریا کو کچھ شرائط پر عمل کرنا ہو گا اگر ایسا نہیں ہوا تو شاید ملاقات بعد میں کبھی ہو۔

شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے سی این اے میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں چھوئے سن ہی نے کہا ہے کہ ’مائیک پینس نے حالیہ دنوں میں میڈیا پر بے لگام اور بیباک بیانات دیے جن میں شمالی کوریا کا حال لیبیا جیسا ہوگا بھی شامل ہے۔‘

ادھر واشنگٹن میں موجود چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ ’امریکہ کے پاس شمالی کوریا کے ساتھ امن معاہدے کرنے اور تاریخ رقم کرنے کا یہی وقت ہے۔‘

تاہم امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے درمیان طے شدہ ملاقات اب بھی ہو سکتی ہے۔

اس سے قبل مائک پومپیو نے ہی کہا تھا کہ امریکہ ان مذاکرات کو ختم کرنے کے لیے تیار ہے اور ’برا معاہدہ‘ کوئی آپشن نہیں ہے۔

شمالی کوریا نے خیر سگالی کے طور پر رواں ہفتے ایک جوہری تنصیب کو ختم کرنا تھا لیکن خراب موسم کے باعث یہ کارروائی تاخیر کا شکار ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.