213

’اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کسی کا مشورہ درکار نہیں‘

پاکستان نے امریکہ کی جانب مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کے مرتکب ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی بنیادوں پر کیا گیا فیصلہ قرار دیا ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کو اپنی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کسی ملک کے مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے مذہبی آزادی کے حوالے سے اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان کو ایسے ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے جہاں مذہبی آزادی کے حوالے سے شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے فیصلوں سے ’واضح امتیاز ظاہر ہونے کے علاوہ اس ناجائز عمل میں شامل خودساختہ منصفین کی شفافیت اور قابلیت پر بھی سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھتے ہیں۔‘

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان ایک کثیرالمذہبی ملک اور کثرت پسندانہ معاشرہ ہے جہاں مختلف عقائد اور فرقوں کے حامل لوگ رہتے ہیں۔ ملک کی کل آبادی کا چار فیصد حصہ مسیحی، ہندو، بودھ اور سکھ عقائد سے تعلق رکھتے ہیں۔‘

وزارت خارجہ کے مطابق پاکستانی حکومتوں نے اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو ملک کے قانون اور آئین کے وضع کردہ حقوق کے مطابق تحفظ فراہم کرنے کو فوقیت دی ہے جبکہ اعلیٰ عدلیہ نے اقلتیوں کی عبادت گاہوں اور املاک کے تحفظ کے لیے کئی اہم فیصلے دیے ہیں۔

پاکستان کے حوالے سے امریکی وزارتِ خارجہ نے گذشتہ سال سنگین ترین لسٹ میں ڈالنے کے بجائے ایک مخصوص درجہ بندی قائم کی تھی جسے سپیشل واچ لسٹ قرار دیا گیا تھا اور اس پر صرف پاکستان تھا
‘مذہبی آزادی پر خدشات’، پاکستان امریکی بلیک لسٹ میں
منگل کو امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق امریکہ نے مذہبی آزادی کے حوالے سے اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان کو ’خصوصاً تشویش والے ممالک‘ میں شامل کیا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی حکومت کو پاکستان میں مذہبی آزادی پر موجود قدغنوں کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالنا ہو گا۔

امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ 28 نومبر کو کیا۔

ان ممالک میں پاکستان کے علاوہ برما، چین، اریٹریا، ایران، شمالی کوریا، سوڈان، سعودی عرب، تاجکستان اور ترکمانستان شامل ہیں۔

بیان کے مطابق یہ وہ تمام ممالک ہیں جہاں مذہبی آزادی کے بین الاقوامی قانون 1998 کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں یا جہاں ان سے صرفِ نظر کرتے ہوئے منظم طریقے سے مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کی جاتی ہیں۔

پاکستان کو ایک برس قبل مذہبی آزادیوں کے حوالے سے نگرانی کی امریکی فہرست میں شامل کیا گیا تھا تاہم اب اسے بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔

مائیک پومپیو کا مزید کہنا تھا ’میں نے کوموروس، روس اور ازبکستان کو ایسی حکومتوں کی واچ لسٹ میں ڈالا ہے جو یا تو خود مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں میں شامل ہیں یا اسے نظر انداز کر رہی ہیں۔ ‘

مائیک پومپیو کا بیان میں مزید کہنا تھا ’میں نے النصرہ فرنٹ اور القاعدہ کو جزیرہ نما عرب میں اور دیگر علاقوں میں القاعدہ، بوکوحرام، الشباب، حوثی ، دولت اسلامیہ، دولتِ اسلامیہ خراسان اور طالبان کو خاص طور پر باعث تشویش قرار دیا ہے۔‘

مائیک پومپیو کا اس اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے کہنا تھا ’دنیا کے کئی دور دراز حصوں میں اب بھی کئی لوگوں کو محض اپنے عقائد پر زندگی گزارنے کی وجہ سے ہراس، گرفتاری، اور حتی کے موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس صورتحال میں امریکہ محض تماشائی کا کردار ادا نہیں کرے گا۔ مذہبی آزادی کے بین الاقوامی قوانین کی حفاظت اور ان کا فروغ ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ‘

ان کا کہنا تھا ’امن، استحکام اور خوشخالی کو یقینی بنانے کے لیے مذہبی آزادی کا تحفظ لازمی ہے۔‘

انھوں نے واضح کیا کہ ان ممالک کو اس فہرست میں شامل کرنے کا مقصد وہاں کے معاشروں میں افراد کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے۔ میں جانتا ہوں ایسے ممالک میں سے کئی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، میں انہیں خوش آمدید کہتا ہوں۔‘

بیان کے مطابق امریکہ دنیا بھر میں مذہبی آزادی کے معاملے میں حکومتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پر عزم ہے۔

’پاکستان کی نئی قیادت سے امیدیں‘
حقوقِ انسانی کی تنظیمیں ماضی میں پاکستان میں اقلیتوں سے روا رکھے جانے والے سلوک پر آواز بلند کرتی رہی ہیں۔

امریکی سفیر برائے مذہبی آزادی سیم براؤن بیک نے ملک کے نئے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ایک نئے راہ پر جانے کی امید کا اظہار کیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا پاکستان کا ریکارڈ مایوس کن رہا ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک تقریب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’دنیا بھر میں توہین مذہب کے نصف سے زائد قیدی پاکستانی جیلوں میں ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اکثر مذہبی اقلیتوں کے قتل اور ان کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ناکام رہی ہے۔

‘میں امید کرتا ہوں کہ پاکستان کی نئی قیادت اس صورتحال میں بہتری کے لیے کام کرے گی۔ حال ہی میں اس حوالے سے کچھ حوصلہ افزا علامات دیکھی گئی ہیں۔’

خیال رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے توہین مذہب کی جرم میں سزائے موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رہائی کا حکم دیا تھا۔ تاہم ان کی رہائی کے بعد مذہبی و سیاسی جماعتوں کی جانب سے ملک گیر مظاہرے کیے گئے۔

حال ہی میں ان مظاہروں کی قیادت کرنے والی مذہبی جماعت تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی سمیت دیگر افراد کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.