47

اسرائیلی فوج کے سامنے ڈٹ جانے والی لڑکی کو سزا

ایک اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارنے والی 17 سالہ فلسطینی لڑکی احد تمیمی کو استغاثہ کے ساتھ معاہدے کے تحت آٹھ ماہ قید کی سزا دی گئی ہے۔ ۔

ان کی وکیل کا کہنا ہے کہ احد تمیمی نے 12 میں سے چار الزامات قبول کیے ہیں جن میں تھپڑ مارنے کا الزام بھی شامل ہے۔

وہ 5000 شیکلز ($1,440) جرمانہ بھی ادا کریں گی۔

گذشتہ سال دسمبر احد تمیمی کی وہ ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہوگئی تھی جس میں انھیں اپنے گھر کے باہر ایک اسرائیل فوجی کو تھپڑ مارتے دیکھا جا سکتا ہے، اس کے بعد انھیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان کی وکیل گیبسی لیسکی نے کہا کہ اس عدالتی فیصلے کا مطلب ہے کہ انھیں آئندہ موسم گرما میں رہا کر دیا جائے کیونکہ سزا میں وہ وقت شامل ہے جو انھوں نے زیرحراست گزارہ ہے۔

فلسطینیوں کے لیے احد تمیمی اسرائیلی قبضے کے خلاف احتجاج کی ایک علامت بن گئیں جبکہ دوسری جانب بہت سے اسرائیلی انھیں ایک پرتشدد شخص سمجھتے ہیں جو کہ شہرت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اس مقدمے کی سماعت آغاز بند کمرے میں 13 فروری کو مقبوضہ غرب اردن میں اوفر فوجی عدالت میں ہوا تھا۔ ان کی وکیل نے اس مقدمے کے لیے اوپن ٹرائل کی درخواست کی تھی تاہم جج کی جانب سے ’کم سن کے مفاد میں‘ سماعت ’ان کیمرہ‘ کرنے کا حکم دیا تھا۔

گیبسی لیسکی کا کہنا تھا کہ احد تمیمی تھپڑ مارنے اور اشتعال انگیزی کے ایک، ایک اور فوجیوں کے کام میں مداخلت کے دو الزامات قبول کریں گی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ انھوں نے یہ قانونی سمجھوتہ کیوں کیا تو گیبسی لیسکی کا کہنا تھا کہ ’جب انھوں نے فیصلہ کیا کہ اس مقدمے کی سماعت بند کمرے میں ہوگی، تو ہم جانتے تھے کہ یہ مصنفانہ نہیں ہوگا۔‘

خیال رہے کہ یہ واقعہ 15 دسمبر 2017 کو پیش آیا تھا اور اس وقت احد تمیمی کی عمر 16 برس تھی اور اس واقعے کی ویڈیو ان کی والدہ نے بنائی تھی۔

بعد میں احد تمیمی کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور ان کی والدہ کے خلاف بھی سوشل میڈیا پر اشتعال پھیلانے کی دفعات عائد کی گئیں۔

احد تمیمی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ ان کے رویے کی وجہ یہ تھی کہ اسی دن انھوں نے ان فوجیوں کی جانب سے اپنی کزن کو ربڑ کی ایک گولی مارے جانے کی ویڈیو دیکھی تھی۔

جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ انھوں نے فوجیوں کو احد تمیمی کے گھر اس لیے بھیجا تھا کیونکہ وہاں سے فلسطینی نوجوان پتھراؤ کر رہے تھے۔

دو سال قبل احد تمیمی کی ہی ایک ویڈیو منظرِعام پر آئی تھی جس میں انھیں ایک اسرائیلی فوجی کے ہاتھ کو دانتوں سے کاٹتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس اسرائیلی فوجی نے ان کے بھائی کو پتھر پھینکنے کے شبہے میں حراست میں لیا تھا۔

احد تمیمی پہلی مرتبہ 11 سال کی عمر میں منظر عام پر آئی تھیں جب انھیں ایک ویڈیو میں ایک فوجی کو مکے سے ڈراتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

اس سے قبل انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کا کہنا تھا کہ احد تمیمی کا کیس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسرائیلی فوج کس طرح فلسطینی نوجوانوں کے ساتھ برا سلوک کرتی ہے۔

اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ تین برسوں میں نوجوانوں کے لیے بنائی گئی خصوصی فوجی عدالتوں میں 1400 فلسطینیوں کے خلاف مقدمات چلائے جا چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.