58

اسرائیلی خاتون اول کا سرکاری رقم میں خیانت کا اعتراف

اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو کی بیوی نے اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے سرکاری رقم کے استعمال میں خورد برد کی تھی۔ اب انھیں 15 ہزار ڈالر کی یہ رقم واپس کرنا ہوگی۔

سارہ نتن یاہو پر الزام تھا کہ انھوں نے غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے 99 ہزار تین سو ڈالر باہر سے کھانا منگوانے پر یہ کہہ کر خرچ کیے تھے کہ گھر پر باورچی نہیں ہیں۔

گزشتہ برس ان پر دھوکہ دہی اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

ان کا وکیل کا موقف تھا کہ اس معاملے کا سارہ نتن یاہو سے کوئی تعلق نہیں اور یہ محض ان کے شوہر کو گرانے کی کوشش ہے۔

یروشلم پوسٹ کے مطابق یہ معاملہ ان کے مجرمانہ ریکارڈ کا حصہ رہے گا۔

پلی ڈیل یا سمجھوتہ عدالت سے باہر استغاثہ اور ملزم کے درمیان طے پاتا ہے جس سے استغاثہ کے وقت اور وسائل کی بچت ہو جاتی جب کہ ملزم عدالتی کارروائی اور بڑے جرمانے سے بچ جاتا ہے۔

اب معاہدے کے بعد سارہ 12 ہزار چار سو نوے ڈالر سرکاری خزانے میں جمع کروائیں گی اور 2 ہزار سات سو ستتّر ڈالر کا جرمانہ ادا کریں گی۔

سرکاری وکیل ایرز پدان کا کہنا ہے کہ استغاثہ نے اس معاملے میں ‘نمایاں رعایت’ سے کام لیا ہے جس کے بعد ایک ‘متوازن اور درست پلی ڈیل’ ہو پائی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں عدالت 80 گواہوں کے بیانات قلم بند کرنے سے بچ گئی۔

انھوں نے کہا کہ ‘استغاثہ کو معلوم ہے کہ جرم اور حاصل ہونے والی رقم میں مکمل ربط یا تناسب نہیں ہے، مگر قانوی اعتبار سے مکمل ربط یا تناسب کا ہونا لازمی نہیں۔’

گزشہ برس ان کے وکلا نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ سارہ نتن یاہو کو باہر سے کھانا منگوانے کے طریقۂ کار کے بارے میں آگہی نہیں دی گئی تھی اور یہ کہ کھانا معزز مہمانوں کے لیے ضیافتی مُہتمم یا ہاؤس ہولڈ منیجر نے منگوایا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.