28

اسحاق ڈار اور اُن کی غلط اقتصادی پالیسیاں

پاکستان میں حکمران جماعت مسلم لیگ نواز نے اقتدار سنھبالنے کے بعد معیشت کو اپنی پہلی اور آخری ترجیح قرار دیا تھا لیکن اب اُن کی حکومت آخری دور میں معشیت اُن کی ترجیحات میں کہیں دور تک دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مالیاتی خسارے بڑھ رہے ہیں، کرنسی کی قدر گھٹ رہی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔ اب تو عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت مالیاتی ادارے پاکستان کے بڑھتے ہوئے خسارے اور ادائیگیوں میں عدم توازن پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بسترِ علالت پر ہونے کے باوجود بھی عہدہ چھوڑنے کو تیار نہیں تھے گو کہ اب وہ وزیر خزانہ نہیں ہیں لیکن اقتصادی ماہرین کے خیال میں اُن کی پالیسوں کی بدولت معیشت اس نہج پر پہنچی ہے کہ اسے سنھبلتے سنبھلتے بھی وقت لگے گا۔

اسحاق ڈار کی کون کون پالیسیاں معیشت کے لیے نقصان دہ رہیں؟

مصنوعی طور پر روپے کی قدر کو مستحکم رکھنا
اسحاق ڈار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے روپے کی قدر کو مصنوعی طریقے سے مستحکم رکھا تھا۔ گو اب ڈالر پانچ فیصد بڑھ کر 115 روپے کا ہو گیا ہے لیکن سنہ 2013 میں جب حکومت اقتدار میں آئی تو ڈالر 108 روپے کا تھا۔ اسحاق ڈار نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ڈالر کی کو نیچے لائیں گے اور انھوں نے ایسا ہی کیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ پاکستان میں امریکی ڈالر 98 روپے کا ہو گیا۔

لیکن کرنسی کی قدر کو مصنوعی طریقے سے مستحکم کرنے کا نقصان یہ ہوا کہ درآمدت بڑھتی گئیں اور پاکستان میں بننے والی اشیا مہنگی ہونے کی وجہ سے برآمدات کم ہوتی گئیں۔ روپے قدر میں مصنوعی استحکام سے ملک میں مہنگائی ہوئی اور اسی وجہ سے سٹیٹ بینک نے شرح سود کو بھی کم کیا۔

’احمقانہ‘ ٹیکسوں کا اطلاق
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے نئے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لایں گے۔ انھوں نے اپنے پہلے رئیل سٹیٹ سمیت کچھ نئے سیکڑز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش تو کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔

اخراجات پورے کرنے کے لیے آمدن تو چاہیے تھی اس لیے اسحاق ڈار نے بھی ماضی کی روایت برقرار رکھتے ہوئے پہلے سے عائد ٹیکسوں کی شرح بڑھا کر ہی ٹیکس آمدن کو بڑھایا۔

انھوں نے سیلز ٹیکس کی شرح بڑھائی، گیس پر اضافی ٹیکس عائد کیا، کسٹم ڈیوٹی کی شرح بڑھائی اور ایڈوانس ٹیکس کے علاوہ کئی چیزوں پر ودہولڈنگ ٹیکس بھی عائد کیا۔

ان تمام اقدامات سے حکومت کی آمدن میں تو اضافہ ہو لیکن پیدواری شعبے کی کاروباری لاگت بڑھنے سے انھیں نقصان ہو اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ادائیگیوں میں عدم توازن کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے۔ اقتصادی ماہرین ان ٹیکسوں کو ’احمقانہ ٹیکسیشن‘ قرار دیتے ہیں۔

ملکی اور غیر ملکی قرضوں پر انحصار کرنا
اقتصادی ترقی اور پیداوار بڑھانے کے لیے قرض لینا غلط معاشی فیصلہ نہیں ہے لیکن اگر قرض لے کر اخراجات پورے کیے جائیں تو اس سے ملک دیوالیہ ہو سکتا ہے۔

درآمدت اور اخراجات بڑھنے، برآمدات اور آمدن کم ہونے کے سبب بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کے لیے قرضوں پر انحصار کیا گیا۔ حکومت نے بین الاقوامی مارکیٹ میں مختلف بانڈز جاری کیے، عالمی مالیاتی اداروں اور مقامی بینکوں سے قرض لیا۔

سٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق سنہ 2013 میں پاکستان کا مجموعی قرض ساڑھے 14 ٹریلین روپے تھا جو دسمبر 2017 میں ساڑھے 21 ٹریلین روپے ہو گیا ہے۔ یعنی چار برسوں میں قرضوں میں سات ٹریلن روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ ان چار برسوں میں 40 ارب ڈالر مالیت کے بین الاقوامی نئے قرضے لیے گئے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جی ڈی پی میں ملکی و غیر ملکی قرضوں کی شرح 74 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

اقتصادی اصلاحات نہ کرنا
مضبوط معیشت کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں لیکن ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار نے معیشت کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لیے کسی قسم کی اصلاحات نہیں کیں۔

اقصادی ماہر ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں زیر گردش قرضوں کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’نئی کمپنی بنا کر تمام سرکلر ڈیٹ کی رقم کو بجٹ سے نکال کر علیحدہ کر دیا لیکن اس سے قرض ختم نہیں ہوا۔‘

ڈاکٹر اشفاق کا کہنا تھا کہ غیر جانبدار اداروں جیسے سٹیٹ بینک، سکیورٹیز اینڈ ایکسچنج کمیشن میں کمزور افراد کو تعینات کیا گیا اور ان اداروں کی غیر جانبدار نہیں رہنے دیا گیا۔

اُن کے مطابق معاشی اعداوشمار یا ڈیٹے پر بھی مکمل یقین نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اعدادشمار میں بھی اپنی مرضی کے مطابق ردوبدل کیا گیا۔

اسحاق ڈار ’ون مین شو‘
اسحاق ڈار کا شمار نواز شریف کے قریب ترین رفقا میں ہوتا ہے وہ معیشت کے علاوہ دیگر سرکاری اُمور نمٹانے میں بھی مصروف رہتے تھے۔ ڈاکٹر اشفاق حسن کے مطابق اسحاق ڈار کسی کا مشورے لیے بغیر معیشت کے معاملات کو خود ہی چلاتے تھے۔

مسلم لیگ نواز کی حکومت اپنے مدت مکمل کرنے کے قریب ہے لیکن پاکستان کی معشیت اتنہائی مشکل حالات سے گزر رہی ہے۔

ایسے میں جہاں ایک مرتبہ پھر عالمی مالیاتی فنڈ سے ایک اور بیل آؤٹ پیکج کی گونج سنائی دی رہی وہیں یہ سوال بھی جوں کا توں ہے کہ آخر کب پاکستانی معشیت بغیر بیساکھی کے اپنے پیروں پر کھڑی ہو گی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں