31

آئی ڈی پیز کا ڈھول کی تھاپ پر احتجاجی مظاہرہ

شمالی وزیرستان کے سینکڑوں آئی ڈی پیز نے گذشتہ5مہینوں سے سم کے ذریعے ماہانہ12ہزار روپے امدادی رقم کی بندش،400سے زائد پکڑی گئی آئی ڈی پیز کی گاڑیوں کی واپسی اور رہ جانے والے آئی ڈی پیز کی واپسی کیلئے ڈھول کی تھاپ پر احتجاجی مظاہرہ کیا ، مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کیا اور ملک غلام خان کی قیادت میں احتجاجی ریلی نکالی ریلی کے شرکاء ایف ڈی ایم اے کے خلاف اور اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی کرتے رہے جگہ جگہ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی فاٹاکے سیکرٹری اطلاعات ملک
غلام خان نے کہا کہ قبائلی عوام دہشت گرد نہیں بلکہ پر امن لوگ اور محب وطن ہیں حکومت نے جون2014میں اپریشن کے وقت تین مہینوں میں اپریشن مکمل کرنے اور آئی ڈی پیز کی مکمل واپسی کا اعلان کیا تھا اور لاکھوں قبئلی عوام شمالی وزیرستان سے بے سرو سامانی کی حالت میں نکلے جنہیں اپنے ساتھ نا ن کسٹم پیڈ گاڑیاں ساتھ لیجانے کی اجازت دی گئی تھی اور بندوبستی میں بغیر کاغذات کے گاڑیوں کی اجازت دی تھی لیکن پولیس اور ایکسائز کی جانب سے متاثرین شمالی وزیرستان کی400سے زائد گاڑیاں پکڑی گئیں جسے فوری طور پر واپس کیا جائے واپس جانے والے قبائلی عوام کیلئے صحت،تعلیم،پانی وبجلی کی تمام سہولیات فراہم کی جائیں جبکہ افغانستان میں رہ جانے والے آئی ڈی پیز کی واپسی سمیت واپسی سے محروم ماچس کارخانہ،ظفر ٹاؤن اور میرانشاہ شہر کے متاثرین کی واپسی جلد از جلد یقینی بنائی جائے اور ان کیلئے رہائش سمیت تمام سہولیات زندگی کو یقینی بنایا جائے انہوں نے کہا کہ ایف ڈی اے نے گذشتہ5مہینوں سے آئی ڈی پیز کے سم بند کئے ہیں وہ کھول دیئے جائیں اور آئی ڈی پیز کی امدادی رقم مختلف طریقوں سے ہڑپ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے بصورت دیگر ہم مسائل حل نہ ہونے اور مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے دفتر اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے دھرنا دیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں